دہلی

حج کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت، حکومت پر سپریم کورٹ برہم

عرضی داخل کرنے والے حافظ نوشاد احمد اعظمی نے بہت افسوس کے ساتھ کہا کہ عدالت عظمیٰ کے بار بار ہدایت کے باوجود مرکزی حکومت نےابتک اس پر عمل نہیں کیا۔ یہ آئین اور قانون کا حکومت کے ذریعہ مذاق اڑا یا جارہا ہے۔

نئی دہلی: حج کمیٹی آف انڈیاکی تشکیل کے سلسلے میں آج ایک بار پھر عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے اب تک کی اس سلسلے میں کی گئی کارروائی کی رپورٹ حلف نامے کے ذریعہ اگلی سماعت سے پہلے عدالت عظمیٰ میں داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔

متعلقہ خبریں
مرکزی حکومت کے تمام دفاتر 22 جنوری کو نصف یوم بند
حج کمیٹی کا مینار گارڈن فنکشن ہال میں عازمین حج کا تربیتی اجتماع
نیٹ امتحان، امیدواروں کے رعایتی نشانات منسوخ، متاثرہ طلبہ کے لئے دوبارہ امتحان (تفصیلی خبر)
اسٹاک مارکٹ کے گرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا
ماچرلہ کے ایم ایل اے رام کرشنا ریڈی پر سپریم کورٹ کی پھٹکار

 یہ بات آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی گئی ہے حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی کی طرف سے داخل عدالت عظمیٰ کی حکم عدولی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ اور جسٹس جےبی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی 3 رکنی بنچ نے سماعت کے دورا ن یہ ہدایت جاری کی،۔

سرکاری سینیئر وکیل کےنٹراج نے عدالت عظمیٰ سے زبانی طور پر کہا کہ حکومت اس سلسلے میں کام کررہی ہے اور جلد کمیٹی بن جائے گی مسٹر اعظمی کے وکلا سنجےآر ہیگڑے اور طلحہ عبدالرحمٰن نےبحث کرتے ہوئے کہا کہ 27 مار چ 2023 کا فیصلہ ہوا ہے ۔

اور آج تک اس پہ کوئی عمل نہیں ہوااور حکم عدولی کی درخواست ہمیں دینی پڑی اور اس سے بھی آج تیسری بار سماعت ہورہی ہے اس لیے عدالت عظمیٰ اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سنجیدگی سے غور کرے اور مئی میں حاجیوں کی پرواز ہورہی ہے اور حج کمیٹی ہی حاجیوں کی نمائندہ ہے ملک کےحاجیوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ 25 جنوری کو چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 6 ہفتہ کے اندر کمیٹی کی پوری طرح تشکیل کرکے 7 مار چ تک جواب داخل کرے۔

فریقین کی بحث سننے کے بعد چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اگلی سماعت کےپہلے حلف نامہ کےذریعہ یہ سب کچھ بتائیں کہ اب تک اس سلسلے میں حکومت نے کیا کیا ہے ۔

عرضی داخل کرنے والے حافظ نوشاد احمد اعظمی نے بہت افسوس کے ساتھ کہا کہ عدالت عظمیٰ کے بار بار ہدایت کے باوجود مرکزی حکومت نےابتک اس پر عمل نہیں کیا۔ یہ آئین اور قانون کا حکومت کے ذریعہ مذاق اڑا یا جارہا ہے۔

 انھوں نے کہا کہ ناانصافی کے خلاف قانون حج ایکٹ 2002 کو لا گو کرنے کےلیے اکتوبر 2021 سے میں سپریم کورٹ کے دروازے پر لگاتار دستک دے رہاہوں اور کم از کم اس حکم عدولی کے درخواست سمیت 13 بار اس مقدمہ کی سماعت ہوچکی ہے اور ابھی تک اس پر مکمل طور پر عمل نہیں ہوا ہے۔

جس سے عازمین حج کا یہ ادارہ حکومت کے شاہی فرمان کی طرح چل رہا ہے اور عازمین کے مسائل کے ساتھ ساتھ بہت سے مسائل جنھیں حج کمیٹی حل کرتی وہ نہیں ہو رہا ہے۔ انھوں نے اپنے وکلا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملہ میں سنجیدہ رہے اور عدالت عظمیٰ کے سامنے بار بار یہ مقدمہ پیش کیا اور ہدایات جاری ہوتی رہیں ۔

a3w
a3w