خواجہ معز الدین قتل کیس ، ملزم محبوب عالم خان کو ضمانت مل گئی
خواجہ معزالدین کی موت 23 مئی کو ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق وہ صبح اپنے گھر سے نکل رہے تھے کہ شانت نگر، مساب ٹینک کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں ان کی موت ہوگئی۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے وکیل اور وقف امور کے کارکن خاجہ معیزالدین کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نامپلی عدالت نے جمعرات کو کیس کے دوسرے ملزم محبوب عالم خان کو مشروط ضمانت دے دی ہے۔
خواجہ معزالدین کی موت 23 مئی کو ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق وہ صبح اپنے گھر سے نکل رہے تھے کہ شانت نگر، مساب ٹینک کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں ان کی موت ہوگئی۔
ابتدائی طور پر یہ واقعہ سڑک حادثہ سمجھا گیا، لیکن پولیس کی تفتیش آگے بڑھنے کے بعد اسے مبینہ طور پر منصوبہ بند قتل قرار دیا گیا۔
پولیس کی تفتیش میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ خواجہ معز الدین کے خاندان اور محبوب عالم خان اور ان کے بیٹے مجاہد عالم خان کے درمیان وقف املاک سے متعلق طویل عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسی تنازع کی وجہ سے قتل کی سازش رچی گئی۔
پولیس کے مطابق، اس معاملے میں تقریباً 15 لاکھ روپے کی مبینہ سپاری دی گئی تھی اور قتل کو سڑک حادثے کا روپ دینے کی کوشش کی گئی۔ تفتیش کے دوران محبوب عالم خان، ان کے بیٹے مجاہد عالم خان اور دیگر افراد سمیت کئی ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا۔
محبوب عالم خان کو اس سے پہلے بھی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا تھا، تاہم جولائی میں نامپلی عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اب تازہ پیش رفت میں عدالت نے انہیں مشروط ضمانت دے دی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ مقتول خواجہ معز الدین وقف املاک سے متعلق کئی قانونی معاملات کی پیروی کر رہے تھے۔ پولیس کی تفتیش میں وقف املاک کے تنازع کو قتل کی مبینہ سازش کے اہم محرکات میں شامل کیا گیا ہے، تاہم ان تمام الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد ہی ہوگا۔
اب محبوب عالم خان کو مشروط ضمانت ملنے کے بعد کیس کی آئندہ کارروائی پر سب کی نظریں ہیں، جبکہ قتل کی سازش اور دیگر ملزمین کے کردار سے متعلق قانونی کارروائی جاری ہے۔