لیبیا نے روسی گیس ٹینکر پر حملے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا
لیبیا کی سپریم اسٹیٹ کونسل کے قومی سلامتی کے مشیر عادل عبد الکافی نے اسپوتنک سے بات چیت کے دوران کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے متعلقہ عالمی اداروں یا ایسی تنظیموں کو آگے آنا چاہیے جنہیں اس نوعیت کے معاملات حل کرنے کا تجربہ ہو، تاکہ لیبیا کے ساحل، سرزمین اور شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔
بن غازی: لیبیا نے بحیرۂ روم میں اپنی ساحلی حدود کے قریب روسی گیس ٹینکر پر حملے کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی تنظیموں سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
لیبیا کی سپریم اسٹیٹ کونسل کے قومی سلامتی کے مشیر عادل عبد الکافی نے اسپوتنک سے بات چیت کے دوران کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے متعلقہ عالمی اداروں یا ایسی تنظیموں کو آگے آنا چاہیے جنہیں اس نوعیت کے معاملات حل کرنے کا تجربہ ہو، تاکہ لیبیا کے ساحل، سرزمین اور شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق، 3 مارچ کو روسی گیس ٹینکر "آرکٹک میٹا گز” پر بحیرۂ روم میں لیبیا کے ساحل کے قریب، مالٹا کی سمندری حدود کے نزدیک، یوکرینی بغیر پائلٹ کشتیوں کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا۔
عبد الکافی نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بحیرۂ روم کے ساحلی ممالک کی توجہ بھی اس معاملے کی طرف مبذول ہونا ضروری ہے، تاکہ ایسے حملوں کو روکا جا سکے، سمندری ماحول کا تحفظ کیا جا سکے اور خطے کے ممالک کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس سے قبل لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے کہا تھا کہ وہ اس حملے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور متاثرہ ایل این جی ٹینکر کو اس کی کسی بندرگاہ تک لے جایا جائے گا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ مکعب میٹر مائع قدرتی گیس لے جانے والا یہ ٹینکر حملے کے بعد اپنی طاقت اور بجلی کھو بیٹھا، جبکہ اس میں آگ لگنے اور گیس دھماکے کا بھی واقعہ پیش آیا۔ ٹینکر میں سوار تمام 30 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم دو ملاح زخمی ہوئے۔