مضامین

پیار ‘محبت‘ وعدے‘قسمیں اور شادی کی رسمیں…

دولہا اوردلہن کیلئے ان کی شادی کا دن سب سے یادگار ہوتا ہے۔دولہا اور دلہن کے خاندانوں کیلئے بھی شادی کی تقریب انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ شادی کے رسم ورواج مختلف ممالک میں ثقافت ،روایات ، مذاہب اور سماجی اعتبار سے منفرد ہوتی ہیں۔

دولہا اوردلہن کیلئے ان کی شادی کا دن سب سے یادگار ہوتا ہے۔دولہا اور دلہن کے خاندانوں کیلئے بھی شادی کی تقریب انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ شادی کے رسم ورواج مختلف ممالک میں ثقافت ،روایات ، مذاہب اور سماجی اعتبار سے منفرد ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں
چائے ہوجائے!،خواتین زیادہ چائے پیتی ہیں یا مرد؟
نواب محمد خورشید جاہ بہادر پائیگاہ کی پڑپوتی کی امریکہ میں شادی
باراتیوں کی زدوکوب سے ویٹر ہلاک
رس گلا کھانے سے 70 افراد بیمار
شادی کے موقع پر کی گئی فائرنگ سے ایک شخص کی موت

اسلامی روایت کے مطابق مسلمان گھرانوں کی شادیوں میںیوںتو نکاح اور ولیمہ کی تقریب شادی کی مذہبی رسومات ہیں ۔

تاہم برصغیر ہندوپاک کی تقسیم سے قبل مختلف مذاہب کے افراد مل جل کر شادی اور دیگر تہواروں کی خوشیاں منایا کرتے تھے جس کی وجہ سے تقسیم ہند کے بعد بھی پاکستانی شادیوں میںچند خاص ہندوستانی روایات جیسے ابٹن، مانجھے، مہندی وغیرہ کی رسمیں شامل ہوئیں اورآج تک ہماری شادیوں کا حصہ ہیں۔

 مختلف ممالک میں ثقافت ،مذاہب اورروایات کے مطابق شادی کی مرکزی تقریب کے ساتھ دلچسپ رسم ورواج نبھائے جاتے ہیں۔آج کل پاکستان میں بھی چونکہ شادیوں کا سیزن عروج پر ہے، اس لیے ہم دنیا کے مختلف ممالک میں شادی کے موقع پر نبھائی جانے والی چند انوکھی روایات اور رسموں کے بارے میں دلچسپ معلومات اپنے قارئین کو فراہم کررہے ہیں۔

شادی کے رواج کا لطف دوبالا کرنے اور تفریح کیلئے کسی بھی منفرد رسم کو اپناکر اپنی شادی کو مزید یادگار بنایا جاسکتا ہے۔

جوتاچھپائی کی رسم:

ہمارے ہاں شادی کوتہوارکی طرح منایاجاتا ہے۔کبھی پورے ایک ہفتے تک اور کبھی 15 دن تک شادی کی مختلف تقاریب کا سلسلہ جاری رہتا ہے اوران تقاریب میں پوری کی جانے والی رسمیں دنیا بھرمیںمقبول ہیں۔

یہاںتک کہ مغربی ممالک میں بھی ’’ دی گریٹ انڈین فیٹ ویڈنگ‘‘ کی تھیم پر شادیاں کی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں شادی کی مختلف رسموں میں سے سب سے زیادہ مقبولیت جس رسم کو حاصل ہے ،وہ جوتا چھپائی کے ہے۔

 اس رسم میں دلہن کی بہنیں اور سہلیاں اپنی دولہا بھائی کے جوتے اتارکر چھپا دیتی ہیں اور جوتوں کی واپسی کے بدلے منہ مانگی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

 اس رسم میں دولہا کی اپنی سالیوں سے بھاو ،تاو اور تکرار انتہائی دلچسپ ہوتی ہے۔ پاکستان کے کثیر الثقافتی معاشرے میں شادیوں میں بہت سی ہندوستانی رسمیں ادا کی جاتی ہیں جن میں جوتا چھپائی کی رسم سب سے زیادہ مقبول ہے۔

سنجیدہ رسم:

افریقی ملک کانگو میں شادی کی ایک ایسی روایت پر چلنا لازم ہے کہ جس پر عمل کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔شادی کا دن دولہا دلہن کیلئے اس قدر پرمسرت ہوتا ہے کہ دونوں اپنی خوشی کو چھپانا چاہیں بھی تو نہیں چھپا سکتے۔

تاہم کانگو میں دولہا اور دلہن کو شادی کے دن اپنی خوشی کو چھپانا ہوتا ہے ۔جی ہاں! کانگو کی روایات کے مطابق شادی اور ریسپشن  کی تقریب کے دوران دولہا اور دلہن کو مسکرانے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی ۔

اگر دولہا اور دلہن کو کسی نے مسکراتا ہوا دیکھ لیا تو اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کیلئے ’’سنجیدہ ‘‘ نہیں ہیں…

نشانہ وار رسم:

چین میں ایک رسم کے مطابق شادی سے پہلے دولہا اپنی دلہن کو تیرکمان کی مدد سے چند تیر مارتا ہے اور پھر ان تیروں کو اکٹھا کرکے سب مہمانوں کے سامنے ایک ساتھ توڑدیتا ہے۔

یہ رسم دولہا اور دلہن کے دائمی محبت کی علامت کے طور پر نبھائی جاتی ہے ۔ دلہن کو مارے جانے والے تیر پلاسٹک یا لکڑی کے بنے ہوتے ہیں۔تاہم اگر اس رسم کو پورا کرنے کیلئے دولہا اگر اپنی دلہن کو اصلی تیروں کا نشانہ بنائے تو یقینا ان کی محبت شادی کے دن ہی ختم ہوجائے گی۔

چین میں دلہن کے رخصتی کیلئے ایک ڈولی یا خصوصی کرسی تیار کی جاتی ہے جس میں بیٹھ کر دلہن اپنے پیا کے گھر جاتی ہے۔ اس کرسی میں دلہن کے ساتھ اس کی ایک سہیلی بھی موجود ہوتی ہے جسے خوش قسمتی کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور یہ سہیلی اپنی دوست کو اس کے ساجن کے گھر چھوڑکر آتی ہے۔

پاکستان میں بھی بعض خاندانوں میںدلہن کے ساتھ رخصتی کے وقت گھر کی کسی بڑی خاتون کو بھیجنے کا رواج آج بھی موجود ہے جبکہ ہمارے ہاں ڈولی میںرخصتی کی روایت ختم ہوچکی ہے۔

خطرناک رسم:

عشق کو آگ کا دریا بھی قرا ردیا گیا ہے اوراس میں ڈوب کر جانے کو مشکل بھی کہا گیا ہے۔ تاہم جزیرہ نماملک فیجی میںشادی کی ایک رسم کچھ ایسی ہی مشکل ہے۔عموماً لڑکی کا رشتہ مانگنے کیلئے مٹھائی یا تحفہ لے کر جایا جاتا ہے

 لیکن فیجی کی روایات کے مطابق دولہا کو شادی سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کا ہاتھ مانگنے کیلئے اپنے سسرکو وہیل مچھلی کا دانت بطور تحفہ پیش کرنا ہوتا ہے جس کے بعد لڑکی کا باپ لڑکے سے متاثر ہوکر اسے اپنی بیٹی کا ہاتھ تھما دیتا ہے۔

 قدیم زمانے میںاس رسم کو پورا کرنا فیجی کے دولہائوں کیلئے مشکل کام تھا۔ تاہم آج کے دور میں اس رسم کیلئے دولہا مچھو اروں سے رابطہ کرتے ہیں۔

وزن بڑھانے کی رسم:

عام طور پر شادی کی تاریخ مقرر ہوتے ہی لڑکیاں اپنا وزن کم کرنے کی بھرپور کوشش میں لگ جاتی ہیں تاکہ اپنی شادی کے دن وہ پتلی دبلی دکھائی دیں۔تاہم بعض ممالک میں گنگاالٹی بہہ رہی ہے۔

جزیرہ نما خوبصورت ملک ماریشس کے رسم ورواج کے مطابق لڑکیوں کو شادی سے قبل اپنا وزن زیادہ سے زیادہ بڑھانا ضروری ہے۔ اس رسم کو نبھانے والوںکا ماننا ہے کہ شادی کے دن دلہن جتنی زیادہ موٹی ہوگی اس کا شوہر مستقبل میںاتنا ہی زیادہ دولت مندہوگا۔اگریہ رسم پوری دنیا میں شروع کردی گئی تو شاید خواتین موٹاپے کو پریشانی سمجھنا چھوڑدیںگی۔

سفید جوڑے کی رسم:

مختلف مذاہب اور ثقافتوں میںعام طور پر اب عروسی لباس کے رنگ کی خاص قید نہیں ہوتی لیکن جاپان کے قدیم مذہب ’’شنٹو‘‘ کے ماننے والے اپنی قدیم روایات پر آج بھی قائم ہیں۔ شنٹو مت کے پیروکار دلہن صرف سفید رنگ کا لباس عروسی زیب تن کرسکتی ہے جبکہ دولہا سرمئی اورسیاہ رنگ کا روایتی لباس پہنتا ہے۔

دولہا اوردلہن کے ان روایتی ملبوسات کو ’’کیمون‘‘(Kimono) کہاجاتا ہے۔ لباس کے علاوہ دلہن کا میک اپ بھی سفید ہی کیاجاتا ہے۔شنٹومت میںدلہن کے سرتاپاسفید لباس کو اس کی پاکیزگی کی علامت تصور کیاجاتا ہے۔

سب سے خاص بات یہ ہے کہ شنٹومت کی دلہن نے اپنے سرپر جو سفید رنگ کا ہڈ پہنا ہوتا ہے ، اس کامطلب یہ ہے کہ دلہن اپنی ساس سے اپنے ’’حسد کے سینگ‘‘ چھپارہی ہے۔ ’’حسد کے سینگ‘‘ چھپانے پرساس کو خوش ہونا چاہیے یا پریشان، اس بارے میں کوئی جاپانی ساس ہی بہتر بتا سکتی ہے۔

پیسے لٹانے کی رسمـ:

پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً پنجاب میںبارات میںدولہا کے دوست ورشتے دار رقص کرتے ہیں اوران پر پیسے بھی لٹائے جاتے ہیں۔ان پیسوں کو لوٹنے کا بھی باقاعدہ مقابلہ ہوتاہے۔ تاہم پاکستان وہ واحد ملک نہیںجہاں شادی پر پیسے لٹائے جاتے ہیں۔ کیوبا میںشادی پر کئی روایتی رسموں کو اہتمام کے ساتھ نبھایا جاتا ہے۔

شادی کے دن دولہا اوردلہن ایک ساتھ رقص کرتے ہیں اور مہمان ان پر پیسے نچھاور کرتے ہیں۔ جو مہمان دلہن کے ساتھ رقص کرتا ہے وہ رسم کے مطابق دلہن کے لباس کے ساتھ پن کی مدد سے کچھ پیسے لگادیتا ہے۔

 خاص بات یہ ہے کہ اس رسم میں نوبیاہتا جوڑے پر نچھاور کئے جانے والے پیسے کوئی دوسرا شخص نہیںلوٹتا بلکہ یہ پیسے دولہا اور دلہن کے پاس ہی جاتے ہیں۔ اس لیے دولہا اور دلہن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقص کریں اور ہنی مون کیلئے خوب پیسے جمع کریں۔

انڈے اورٹماٹرمارنے کی رسم:

عام طور پر انڈے، ٹماٹرودیگر کھانے کو کسی پر پھینکنے کو تذلیل کرنے کا عمل سمجھا جاتا ہے ۔ تاہم اسکاٹ لینڈ میںشادی سے قبل دولہا اور دلہن کو ایسے ہی ایک امتحان سے گزرنا پڑتاہے۔

اسکاٹ لینڈ میں برسوں سے رسم چلی آرہی ہے کہ شادی سے قبل دولہا اوردلہن باسی کھانا، انڈے، ٹماٹر اورمچھلی وغیرہ جیسی چیزیں پھینکی جاتی ہیں۔ یہ رسم نبھانے والوں کا ماننا ہے کہ اگر دولہا اور دلہن اس رسم کو ایک ساتھ پوری کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ زندگی بھر ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیںگے۔

راستہ روکائی کی رسم:

 ہندوستانی شادیوں میں کہیں کہیں یہ رسم رائج ہے کہ جب رخصتی کے بعد دولہا اور دلہن اپنے کمرے میںجانے لگتے ہیں تو دولہے کی بہنیں ان کا راستہ روک لیتی ہیں۔ بہنوں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ انہیںان کی منہ مانگی رقم ادا کی جائے جس کے بعد کمرے میںجانے کا راستہ چھوڑا جائے گا۔

 چین میں بھی شادی میںراستہ روکائی کی ایک رسم ادا کی جاتی ہے ۔چینی روایات کے مطابق جب دلہا بارات لے کر دلہن کو لینے پہنچتا ہے تو دلہن کی سہیلیاں اس کی راہ میں دیوار بن جاتی ہیں۔ دلہن کی سہیلیاں نہ صرف دولہا کا راستہ چھوڑنے کیلئے پیسے لیتی ہیں بلکہ وہ اپنی مرضی کا رقص بھی کرواتی ہیں اوردیگر شرائط بھی پوری کرواتی ہیں۔

٭٭٭

a3w
a3w