حیدرآباد

ملئے ریونت ریڈی سے، وہ شخص جس نے کے سی آر جیسے قد آور لیڈر کو معزول کردیا

سال2006 میں زیڈ پی ٹی سی رکن سے لے کر آج تلنگانہ کا چیف منسٹر بننے تک، انمولا ریونت ریڈی نے اپنے 17 سالہ سیاسی کیریئر میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔

حیدرآباد: سال2006 میں زیڈ پی ٹی سی رکن سے لے کر آج تلنگانہ کا چیف منسٹر بننے تک، انمولا ریونت ریڈی نے اپنے 17 سالہ سیاسی کیریئر میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
موسیٰ ریورفرنٹ ترقیاتی پروجیکٹ کو جلد شروع کرنے چیف منسٹر کی ہدایت
500 روپے میں گیس سلنڈر کی فراہمی، 80کروڑ فنڈ جاری
وقف املاک کے تحفظ اور فروغ کے اقدامات کا وعدہ: ریونت ریڈی
عنقریب میگا ڈی ایس سی منعقد کرنے ریونت ریڈی کا اعلان، اساتذہ میں احکام تقرر جاری
آر ٹی سی کی 100 نئی بسوں کا افتتاح

کانگریس پارٹی کے 54 سالہ قائد کو ان کے مداح لاڈ سے ’’پالامورو بڈا‘ یعنی محبوب نگر کا بیٹا کہتے ہیں۔ وہ2007 میں آزاد امیدوار کے طور پر قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

ریونت ریڈی جو محبوب نگر سے ہیں بعد میں ٹی ڈی پی میں شامل ہوئے اور 2009 میں کوڑنگل سے اس وقت کی متحدہ آندھرا پردیش اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے۔

اس کے بعد 2014 میں تلگودیشم پارٹی کے ٹکٹ پر دوبارہ تلنگانہ اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔ طالب علمی کے زمانے میں اے بی وی پی کے رکن رہ چکے ہیں جس کے لئے انہوں نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں کافی بدنام کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ آر ایس ایس ذہنیت کے حامل شخصیت ہیں اور مسلمانوں کو ان سے کسی بھلائی کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔

انہوں نے حیدرآباد میں آر ایس ایس کے ترجمان تلگو ہفتہ وار جاگرتی کے لئے بھی مختصر عرصہ کے لئے کام کیا تھا۔ ریونت ریڈی نے اپنے ابتدائی دنوں میں کبھی بھی آر ایس ایس کے ساتھ اپنے تعلق کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ عمر بڑھنے اور ذہنی پختگی آنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے آر ایس ایس کے نظریے کی مخالفت شروع کردی تھی اور دیگر سیکولر اداروں کی طرف دیکھتے ہوئے ایک دن سنگھ پریوار سے ناطہ توڑ لیا۔

ان کے شفاف کیریئر کو واحد دھبہ اس وقت لگا جب وہ تلنگانہ اینٹی کرپشن بیورو کے ایک اسٹنگ آپریشن میں پکڑے گئے۔ وہ 2015 میں ہوئے ایم ایل سی انتخابات میں ایک ٹی ڈی پی امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے ایک دیگر آزاد ایم ایل سی کو رقم کی پیشکش کرتے ہوئے کیمرے میں قید کرلئے گئے تھے۔ انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

ضمانت پر رہا ہوکر وہ ایک بہت بڑی ریالی میں گھر واپس آئے۔ تب ہی انہوں نے اپنی مونچھو پر تاؤ دیتے ہوئے ٹی آر ایس سپریمو کے سی آر کو چیلنج کیا تھا۔ اب آٹھ سال بعد ریونت ریڈی نے کے سی آر کا تختہ الٹ دیا ہے۔

وہ 2017 میں کانگریس میں شامل ہوئے اور 2021 میں تلنگانہ پردیش کانگریس کے سربراہ بنے تو انہیں پارٹی کے سینئر لیڈروں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن وہ ڈٹے رہے اور پارٹی کے ہر چھوٹے بڑے لیڈر کو ساتھ ملا کر متحدہ طور پر تلنگانہ میں ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی بی آر ایس کا مقابلہ کیا اور کے سی آر حکومت کو گرانے کے لئے انتھک محنت کی۔

حال ہی میں ختم ہوئے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی زبردست کامیابی کا سہرا ریونت ریڈی کے سر باندھ دیا گیا ہے۔ وہ تلنگانہ میں پارٹی کا چہرہ تھے۔

انہوں نے اس کامیابی کے ساتھ ہی پارٹی میں متحارب گروپوں کو متحد کردیا جس نے بالآخر بی آر ایس پر زبردست فتح کی راہ ہموار کی۔

کانگریس کے لئے جس نے گزشتہ 40 برسوں میں تلنگانہ خطہ سے کبھی بھی 60 سیٹیں نہیں جیتی تھیں، ریونت ریڈی نے ناقابل تصور کام کیا ہے اور یہ کامیابی کانگریس پارٹی کے لئے ایک تسلی کا کام کرگئی جسے ہندی ہارٹ لینڈ ریاستوں اور میزورم میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔