مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ منتخب — جانشینی کا عمل مکمل
یہ جانشینی کا عمل 28 فروری کو تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ان کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا
تہران: مرحوم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران کے اعلیٰ مذہبی و آئینی ادارے مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے کیا ہے، جو سپریم لیڈر کے انتخاب اور ان کی نگرانی کی آئینی ذمہ دار ہے۔
اس پیش رفت کی اطلاع بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایران انٹرنیشنل نے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجلس خبرگان کے ارکان نے متفقہ مشاورت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کے نام کی منظوری دی، جس کے ساتھ ہی قیادت کی منتقلی کا آئینی عمل باضابطہ طور پر مکمل ہو گیا۔
یہ جانشینی کا عمل 28 فروری کو تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ان کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔ 85 سالہ آیت اللہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، جس کے باعث وہ خطے کے طویل ترین عرصے تک اقتدار میں رہنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کا دورِ قیادت ایران کی جدید تاریخ کے نہایت اہم اور حساس مراحل پر محیط رہا۔ ان کے عہد میں امریکہ کے ساتھ طویل اور شدید کشیدگی، خطے میں پراکسی جنگیں، سخت بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں، اور عالمی طاقتوں کے ساتھ پیچیدہ جوہری مذاکرات جیسے بڑے چیلنجز سامنے آئے۔ اس دوران ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سیاسی و عسکری اثر پذیری میں نمایاں اضافہ بھی کیا۔
نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کی قیادت میں ایران کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی میں تسلسل کے ساتھ ساتھ بعض نئے رخ بھی سامنے آ سکتے ہیں، تاہم آنے والے دنوں میں ان کی پالیسی ترجیحات واضح ہوں گی۔
مجلس خبرگان کے اس فیصلے کے بعد ایران میں اقتدار کی منتقلی کا آئینی مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ملکی و عالمی سطح پر اس تبدیلی کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔