امریکی حملے میں شہید طالبات کو میناب کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ، ایرانی وزیر خارجہ کا شدید ردعمل
اپنے پیغام میں عباس عراقچی نے کہا کہ یہ وہی ’’ریسکیو‘‘ ہے جس کا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے سخت لہجے میں لکھا کہ ’’غزہ سے میناب تک، معصوم جانوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے۔‘‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی حملے میں شہید ہونے والی 160 کمسن طالبات کی قبروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عالمی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ تصاویر انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیں۔
اپنے پیغام میں عباس عراقچی نے کہا کہ یہ وہی ’’ریسکیو‘‘ ہے جس کا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے سخت لہجے میں لکھا کہ ’’غزہ سے میناب تک، معصوم جانوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے۔‘‘
وزیر خارجہ کے مطابق امریکی حملے میں شہید ہونے والی 160 طالبات کا تعلق ایک ایلمینٹری اسکول سے تھا۔ ان طالبات کو جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تصاویر میں قطار در قطار تازہ قبریں دکھائی دے رہی ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
https://x.com/i/status/2028779415723811000
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے۔ انہی حملوں کے دوران میناب میں واقع ایک ایلمینٹری اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 160 طالبات شہید ہو گئیں۔ اس سانحے کے بعد ایران بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اس واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور معصوم شہریوں کے قتل پر ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔