حیدرآباد

موسیٰ ندی بیوٹیفکیشن، متاثرین کو نقد نہیں، اب ٹی ڈی آر میں ملے گا معاوضہ — حکومت کا نیا جی او جاری

اسی سلسلے میں حکومت نے نیا جی او نمبر 16 جاری کرتے ہوئے سال 2012 کے جی او 168 میں ترمیم کی ہے۔ نئے ضابطوں کے مطابق اگر جھیلوں یا ندیوں کے ایف ٹی ایل یا ایم ایف ایل حدود میں موجود پٹہ زمین حکومت کے حوالے کی جاتی ہے تو اس کے بدلے زمین کے رقبے کے مطابق 200 فیصد ٹی ڈی آر دیا جائے گا۔

حیدرآباد: موسیٰ ندی کی خوبصورتی میں اضافے کے منصوبے پر حکومت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ماضی میں موسیٰ ندی کے اطراف واقع کئی غریب بستیوں کے مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں حیدرا (HYDRA) کے تحت جھیلوں کی ترقی کے نام پر پٹہ زمینوں کے حصول پر بھی شدید تنازعات سامنے آئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

اس پس منظر میں چیف منسٹر اے۔ ریونت ریڈی نے کئی مرتبہ یقین دہانی کرائی تھی کہ موسیٰ ندی بیوٹی فکیشن منصوبے میں زمین یا مکان کھونے والوں کو بڑے پیمانے پر معاوضہ دیا جائے گا۔ تاہم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ متاثرین کو براہ راست نقد رقم کے بجائے ٹی ڈی آر (Transferable Development Rights) کی شکل میں معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

اسی سلسلے میں حکومت نے نیا جی او نمبر 16 جاری کرتے ہوئے سال 2012 کے جی او 168 میں ترمیم کی ہے۔ نئے ضابطوں کے مطابق اگر جھیلوں یا ندیوں کے ایف ٹی ایل یا ایم ایف ایل حدود میں موجود پٹہ زمین حکومت کے حوالے کی جاتی ہے تو اس کے بدلے زمین کے رقبے کے مطابق 200 فیصد ٹی ڈی آر دیا جائے گا۔

اسی طرح بفر زون میں زمین دینے والوں کو 300 فیصد ٹی ڈی آر جبکہ نالوں کی توسیع یا عوامی ضروریات کے لیے بفر زون کے باہر زمین دینے والوں کو 400 فیصد ٹی ڈی آر فراہم کیا جائے گا۔

حکومت نے زمین دینے والے مالکان کو تعمیرات میں خصوصی رعایتیں دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگر کوئی مالک اپنی پٹہ زمین حکومت کے حوالے کرتا ہے تو اسے باقی زمین پر اضافی منزلیں تعمیر کرنے یا سیٹ بیک میں رعایت حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہائی رائز عمارتوں میں دسویں منزل کے بعد تعمیر ہونے والے حصے میں دس فیصد ٹی ڈی آر استعمال کرنا لازمی ہوگا۔

ٹی ڈی آر جاری کرنے سے قبل محکمہ آبپاشی اور محکمہ ریونیو سے ایگزیکٹو انجینئر یا ایڈیشنل کلکٹر سطح کے افسران کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایک ایکڑ سے زیادہ زمین کے معاملات میں حکومت کی پیشگی اجازت ضروری ہوگی۔ متنازعہ زمینوں کے لیے ٹی ڈی آر براہ راست دینے کے بجائے ٹی ڈی آر بینک میں محفوظ رکھا جائے گا۔

یہ تمام ضابطے حیدرا، جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے کے تحت چلنے والے تمام جھیل ترقی منصوبوں پر لاگو ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زمین مالکان کے حقوق کا تحفظ بھی ہے۔

ادھر موسیٰ ندی بیوٹی فکیشن منصوبے پر پہلے ہی خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ حکومت ندی کے دونوں کناروں سے ایک ایک کلومیٹر تک زمین حاصل کرے گی۔ چونکہ اس علاقے میں لاکھوں تعمیرات موجود ہیں، اس لیے اب ٹی ڈی آر میں 400 فیصد تک اضافے سے یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت بفر زون کے باہر کی زمینیں بھی حاصل کرنے کے ارادے میں ہے۔

دوسری جانب حیدرا کے تحت جھیلوں کی ترقی کے دوران بھی کئی مقامات پر پٹہ زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں جس سے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ سُنّم چیرو جھیل کے اطراف سی آئی ای ٹی کالونی کے مکین عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ تازہ ترمیمی جی او کے بعد حکومت کے لیے متاثرین کو ٹی ڈی آر کے ذریعے معاوضہ دینے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔