گولکنڈہ قلعہ میں قومی پرچم کشائی، 80واں یومِ آزادی جوش و خروش سے منایا گیا
ریونت ریڈی نے ہفتہ کو ریاست کو 2034 تک ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک بلند حوصلہ منصوبہ پیش کیا۔
حیدرآباد : تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ہفتہ کو ریاست کو 2034 تک ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک بلند حوصلہ منصوبہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ترقی کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کو ملک کے لیے ایک مثالی ریاست بنانے کے لیے مضبوط بنیادیں تیار کر رہی ہے۔
یہاں تاریخی گولکنڈہ قلعہ میں قومی پرچم لہرانے کے بعد 80ویں یومِ آزادی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت نے ریاست کی تعمیرِ نو اور جامع ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے، جس میں فلاح و بہبود، سماجی انصاف، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور روزگار پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے فلاحی اقدامات کو وسعت دی ہے اور خوشحال اور مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار تلنگانہ کی تعمیر کے مقصد سے ایک روڈ میپ پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست نے زراعت، خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، صحت، روزگار اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
تازہ ترین ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025-26 میں تلنگانہ کی فی کس آمدنی 4,18,931 روپے ہوگئی ہے، جو قومی اوسط سے تقریباً 91 فیصد زیادہ ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے 2 لاکھ روپے تک کے فصل قرضے معاف کیے ہیں، جس سے 25 لاکھ سے زیادہ کسان خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے، جبکہ رائتھو بھروسہ کے تحت 36,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ نے دھان کی کاشت کے رقبے اور پیداوار دونوں میں پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
خواتین کے لیے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ مہالکشمی اسکیم کے تحت روزانہ 34 لاکھ سے زیادہ خواتین مفت آر ٹی سی بس خدمات استعمال کر رہی ہیں، جس سے ریاست بھر کی خواتین کو تقریباً 11,000 کروڑ روپے کی بچت ہورہی ہے۔