این آر سی، ایس آئی آر سے 100 گنا زیادہ برا ہوگا اویسی ویڈیو وائرل
انہوں نے یاد دلایا کہ اس وقت وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ این آر سی نافذ نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر اویسی نے کہا کہ جاری ایس آئی آر کی کارروائی سے عام لوگوں، خصوصاً اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور تارکین وطن کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے، جنہیں دستاویزات کے ساتھ سماعت کے لیے پیش ہونا پڑ رہا ہے۔
حیدرآباد : آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیانات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) نافذ کرنا ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی سے 100 گنا زیادہ برا ہوگا۔
اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اویسی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا ’’بے جا تکبر‘‘ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ’’کرونولوجی‘‘ ہی 2019 میں سی اے اے/این آر سی مخالف تحریک کا سبب بنی تھی۔ انہوں نے پیر کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی اور مجوزہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے معاملے پر بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس وقت وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ این آر سی نافذ نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر اویسی نے کہا کہ جاری ایس آئی آر کی کارروائی سے عام لوگوں، خصوصاً اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور تارکین وطن کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے، جنہیں دستاویزات کے ساتھ سماعت کے لیے پیش ہونا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ این آر سی ’’100 گنا زیادہ برا‘‘ ہوگا اور اس سلسلے میں آسام کے تجربے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ فلاحی اسکیموں پر انحصار کرنے والے لوگوں سے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات پیش کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسی کارروائی شہریوں کو سرکاری حکام کی مرضی اور رحم و کرم پر چھوڑ دے گی۔
مسٹر اویسی نے یو سی سی کے بارے میں کہا کہ لاء کمیشن پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ یکساں سول کوڈ نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مطلوبہ۔ انہوں نے دلیل دی کہ ہندوستان کی گوناگوں ثقافت اور تنوع ہی اس کی طاقت ہے اور الزام لگایا کہ یو سی سی کا مطلب غیر ہندوؤں پر ہندو پرسنل لا مسلط کرنا ہوگا۔
انہوں نے ’’ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ‘‘ اور نام نہاد ’’لو جہاد‘‘ قوانین جیسے قوانین کے لیے بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ ایسے اقدامات بنیادی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
مسٹر اویسی نے کہا کہ بی جے پی کے حلیفوں کو ’’چھوٹی بی جے پی‘‘ کی طرح کام کرنے کے بجائے اپنی آزاد سیاسی آواز کا اظہار کرنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایاکہ ’’یو سی سی مساوات کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں ہے۔‘‘