حیدرآباد
ٹرینڈنگ

اندراما گھروں کیلئے نئے حکومتی قوانین نے لاکھوں غریبوں کو مایوسی میں مبتلا کر دیا؟

ہر بیان اور اعلان عوام کو گمراہ کرنے کیلئے نظر آتا ہے۔ تازہ ترین مثال اندراما گھروں کی مہم ہے، جہاں قرض معافی کے بارے میں افواہوں نے لوگوں کو الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔

حیدرآباد: کانگریس حکومت جس نے غریبوں کیلئے گھر کے خواب کو پورا کرنے کے بڑے وعدے کیے تھے، اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہر بیان اور اعلان عوام کو گمراہ کرنے کیلئے نظر آتا ہے۔ تازہ ترین مثال اندراما گھروں کی مہم ہے، جہاں قرض معافی کے بارے میں افواہوں نے لوگوں کو الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد

رپورٹس کے مطابق، حکومت اس سال اندراما گھر صرف ان لوگوں کو دینے پر غور کر رہی ہے جن کے پاس اپنی زمین اور راشن کارڈ موجود ہیں۔ یہ تبدیلی بہت سے لوگوں کے لیے مایوس کن ثابت ہوئی ہے، کیونکہ حکومت نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں گھر فراہم کیے جائیں گے جن کے پاس زمین نہیں ہے۔

دریں اثنا، عوامی رابطہ کے دوران، اندراما گھروں کیلئے 80 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 30 لاکھ درخواست دہندگان کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔ یہ صورتحال لاکھوں غریب افراد کیلئے ممکنہ ناانصافی کا خدشہ بڑھا دیتی ہے، جو اب بے یقینی کی حالت میں ہیں۔