پرچہ لیک پر نیا قانون طلبہ کی کامیابی، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ضروری: وی ہنمنت راؤ
پرچہ لیک کے باعث کئی طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور بعض نے انتہائی قدم بھی اٹھایا
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے پسماندہ طبقات اور سابق رکن پارلیمنٹ وی ہنمنت راؤ نے کہا ہے کہ امتحانی پرچہ لیک کے معاملات سے نمٹنے کے لیے نیا قانون ایک مثبت اور خوش آئند قدم ہے، تاہم اس وقت سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔
منگل کو گاندھی بھون، نامپلی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ریاست طلبہ کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے، اس لیے طلبہ کے مفادات کا تحفظ ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے باعث کئی طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور بعض نے انتہائی قدم بھی اٹھایا، جو نہایت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو پارلیمنٹ میں احتجاج اور نعروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ پرچہ لیک کے خلاف نیا قانون صرف مرکزی حکومت کی کامیابی نہیں بلکہ ملک بھر کے طلبہ کی جدوجہد کی کامیابی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کی ہمت نہ ہو۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے استعفے کے مطالبات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اصل توجہ قصوروار عناصر کے خلاف کارروائی پر ہونی چاہیے، نہ کہ غیر ضروری سیاسی بیانات پر۔
پریس کانفرنس کے دوران وی ہنمنت راؤ نے بتایا کہ انہوں نے لوک سبھا میں رول 377 کے تحت آندھرا پردیش کی جانب سے تلنگانہ کو واجب الادا 408.49 کروڑ روپے کی بقایا رقم کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد راج بھون، ہائی کورٹ، لوک آیوکت، ریاستی انسانی حقوق کمیشن، جوڈیشل اکیڈمی اور دیگر مشترکہ آئینی اداروں کے انتظامی اخراجات تلنگانہ نے برداشت کیے، مگر آندھرا پردیش نے اب تک اپنی واجب الادا رقم ادا نہیں کی۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ کے قانونی اور جائز بقایاجات سود سمیت جلد از جلد جاری کرانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ریاست کو اس کا حق مل سکے۔