شمال مشرق

حوثیوں کا کنگ خالد ایئربیس پر درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کا دعویٰ

حوثیوں نے کہا کہ یہ کارروائی یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی ایف-15 اور ٹائفون لڑاکا طیاروں نے گزشتہ پانچ دن کے دوران خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے یمن کے کئی صوبوں میں 300 سے زائد حملے کیے ہیں

صنعا :   یمن کے حوثیوں نے پیر کے روز کہا کہ انہوں نے جنوبی شہر خمیس مشیط میں واقع سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ گروپ نے کنگ خالد ایئربیس کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان کے دعوے کے مطابق حملے میں طیاروں کے ہینگرز، رڈار، رن ویز، اسلحہ و گولہ بارود کے گودام اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایئربیس کو ’’بڑا نقصان‘‘ پہنچا ہے۔

حوثیوں نے کہا کہ یہ کارروائی یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی ایف-15 اور ٹائفون لڑاکا طیاروں نے گزشتہ پانچ دن کے دوران خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے یمن کے کئی صوبوں میں 300 سے زائد حملے کیے ہیں۔

حوثیوں، جنہیں باضابطہ طور پر انصار اللہ کہا جاتا ہے، نے کہا کہ وہ سعودی فوجی اہداف کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ریاض اپنی فضائی کارروائیاں بند نہیں کرتا اور یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں سے محاصرہ ختم نہیں کرتا۔

سریع نے خبردار کیا کہ ’’کسی بھی نئی جارحیت کا جواب مزید وسیع اور شدید کارروائیوں سے دیا جائے گا‘‘ اور کہا کہ گروپ سعودی عرب کی سرزمین کے اندر دور تک موجود اہداف کو نشانہ بناتا رہے گا۔

سریع نے کہا، ’’ہم سعودی فوجی مراکز کو اس وقت تک نشانہ بناتے رہیں گے جب تک جارحیت ختم نہیں ہوجاتی اور یمن سے محاصرہ اٹھا نہیں لیا جاتا۔‘‘

دریں اثنا، سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے خمیس مشیط گورنریٹ میں الرٹ جاری کیا، تاہم بعد میں کہا کہ ’’خطرہ ٹل گیا ہے۔‘‘ اس نے رہائشیوں سے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھنے اور بھیڑ لگانے اور حملے کی ویڈیو بنانے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔

یہ حملہ سعودی عرب اور ایران نواز حوثیوں کے درمیان سرحد پار جاری کشیدگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، خطے میں حوثیوں کی شمولیت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے وسیع ہونے سے خطے میں عدم استحکام اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بحیرہ احمر میں سمندری تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کا یمن میں جاری بحران سے ’’قطعی طور پر کوئی تعلق‘‘ نہیں ہے۔