تلنگانہ

چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ووٹر اندراج سے متعلق دعووں پر نئی سیاسی بحث چھڑگئی

بعض سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کے مطابق وزیراعلیٰ کا نام مبینہ طور پر اچم پیٹ اسمبلی حلقہ (نگر کرنول پارلیمانی حلقہ) اور کوڈنگل اسمبلی حلقہ (محبوب نگر پارلیمانی حلقہ) کی ووٹر فہرستوں میں درج ہے۔ ان دعووں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دونوں اندراجات ایک ہی ای پی آئی سی (EPIC) نمبر سے منسلک ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے ووٹر اندراج سے متعلق بعض دعووں کے سامنے آنے کے بعد ریاست کی سیاسی فضا میں بحث چھڑ گئی ہے۔

بعض سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کے مطابق وزیراعلیٰ کا نام مبینہ طور پر اچم پیٹ اسمبلی حلقہ (نگر کرنول پارلیمانی حلقہ) اور کوڈنگل اسمبلی حلقہ (محبوب نگر پارلیمانی حلقہ) کی ووٹر فہرستوں میں درج ہے۔ ان دعووں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دونوں اندراجات ایک ہی ای پی آئی سی (EPIC) نمبر سے منسلک ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ انتخابی قوانین کے مطابق ایک ووٹر کو اپنے مستقل رہائشی مقام کے مطابق صرف ایک ہی جگہ ووٹر کے طور پر رجسٹر ہونا چاہیے، جبکہ ایک سے زائد مقامات پر اندراج کی صورت میں متعلقہ حکام کی جانب سے جانچ اور تصحیح کی کارروائی کی جاتی ہے۔

تاہم، فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ووٹر فہرست میں کسی قسم کی مماثلت یا دوہرا اندراج موجود ہے تو آیا وہ کسی تکنیکی یا انتظامی خرابی کا نتیجہ ہے یا اس حوالے سے پہلے ہی اصلاحی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

اب تک وزیراعلیٰ کے دفتر یا الیکشن کمیشن کی جانب سے ان دعووں پر کوئی باضابطہ ردعمل یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابی حکام ریکارڈ کی جانچ کے بعد اس معاملے پر وضاحت جاری کریں گے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی پائی گئی تو انتخابی قوانین کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔