حیدرآباد

تلنگانہ میں میونسپل اسسٹنٹ انجینئر رشوت لیتے ہوئے گرفتار

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ٹھیکیدار سے دو لاکھ روپے رشوت طلب کی اور اسے وصول بھی کیا

حیدرآباد :  تلنگانہ میں انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے منگل کو پیداپلی میونسپلٹی کے ایک اسسٹنٹ انجینئر کو ایک ٹھیکیدار کا بل منظور کرکے آگے بھیجنے کے عوض مبینہ طور پر دو لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا۔

اے سی بی کے بیان کے مطابق پیداپلی ضلع کے میونسپل دفتر میں تعینات اسسٹنٹ انجینئر کالیپلی ستیش کمار (33) کو بیورو کی کریم نگر شاخ نے ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ٹھیکیدار سے دو لاکھ روپے رشوت طلب کی اور اسے وصول بھی کیا۔

یہ رشوت مبینہ طور پر پیکیج-9 کے تحت پیداپلی شہر کے تینوگوواڑا میں واقع ہندو قبرستان اور کنارام روڈ پر واقع قبرستان کی ترقیاتی اسکیم کے آخری بل کو منظور کرکے تلنگانہ اربن فنانس اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (ٹی یو ایف آئی ڈی سی)، حیدرآباد کو بھیجنے کے لیے مانگی گئی تھی۔

بیان کے مطابق متعلقہ ٹھیکیدار نے 12 لاکھ 28 ہزار 748 روپے مالیت کا کام مکمل کیا تھا اور اس کے بل کو منظوری کے لیے ٹی یو ایف آئی ڈی سی بھیجا جانا تھا۔

اے سی بی نے ملزم کے قبضے سے دو لاکھ روپے رشوت کی رقم برآمد کی۔ بعد ازاں ان کے گھر کی تلاشی کے دوران حکام نے 32 لاکھ 31 ہزار 900 روپے نقد بھی ضبط کیے، جن کا وہ کوئی تسلی بخش حساب پیش نہیں کر سکے۔

اے سی بی کا کہنا ہے کہ ملزم نے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کیا۔ انہیں گرفتار کرکے کریم نگر میں بدعنوانی کے مقدمات کے خصوصی جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر شکایت کنندہ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔