کسانوں کیلئے بڑی خبر، مرکزی حکومت نے خطرناک جڑی بوٹی مار دوا "پیراکواٹ” پر مکمل پابندی لگادی
وزارتِ زراعت کے مطابق یہ پابندی انسیکٹی سائیڈز ایکٹ 1968 کی دفعہ 27 کے تحت عائد کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پیراکواٹ ایک انتہائی خطرناک کیمیکل ہے، جس کے استعمال سے کسانوں کی صحت اور جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں، اسی لیے اس پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نئی دہلی: حکومتِ ہند نے ملک بھر کے کسانوں کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جان لیوا جڑی بوٹی مار دوا پیراکواٹ (Paraquat Dichloride) پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ مرکزی وزارتِ زراعت نے منگل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اعلان کیا کہ 14 جولائی سے پورے ملک میں اس دوا کی درآمد، تیاری، نقل و حمل، تقسیم اور فروخت پر مکمل پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔
وزارتِ زراعت کے مطابق یہ پابندی انسیکٹی سائیڈز ایکٹ 1968 کی دفعہ 27 کے تحت عائد کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پیراکواٹ ایک انتہائی خطرناک کیمیکل ہے، جس کے استعمال سے کسانوں کی صحت اور جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں، اسی لیے اس پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پیراکواٹ کے مضر اثرات کے باعث گزشتہ برسوں میں ملک بھر میں چھ ہزار سے زائد کسانوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹروں، زرعی ماہرین، سماجی تنظیموں اور کسانوں کی جانب سے طویل عرصے سے اس خطرناک دوا پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
حکومت نے اگرچہ اس دوا پر پابندی عائد کر دی ہے، تاہم متعلقہ کمپنی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت بھی دی گئی ہے۔ کمپنی 13 جولائی سے 13 اگست کے درمیان اپنی تجاویز یا اعتراضات حکومت کے سامنے پیش کر سکتی ہے، جس کے بعد آئندہ قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
واضح رہے کہ دنیا کے 70 سے زائد ممالک پہلے ہی پیراکواٹ پر پابندی عائد کر چکے ہیں، لیکن بھارت میں اس کی فروخت اور استعمال بدستور جاری تھا۔ حالیہ برسوں میں اس کی زہریلی خصوصیات اور انسانی جانوں پر پڑنے والے سنگین اثرات کے پیشِ نظر حکومت نے بالآخر اس پر مکمل پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔
اس معاملے نے اس وقت بھی توجہ حاصل کی تھی جب ٹالی ووڈ کے معروف اداکار راہول رام کرشنا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بھائی کی موت بھی پیراکواٹ کے استعمال سے ہوئی تھی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس دوا پر فوری پابندی عائد کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے علاوہ عالمی اداروں، طبی ماہرین اور زرعی تنظیموں نے بھی حکومت سے اس خطرناک کیمیکل کو ممنوع قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
زرعی ماہرین نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیراکواٹ پر پابندی سے کسانوں کی جانوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور انہیں نسبتاً محفوظ متبادل جڑی بوٹی مار ادویات استعمال کرنے کی ترغیب ملے گی۔