حیدرآباد

نظام کے پوترے نواب نجف علی خان بی جے پی ایم پی ڈی اروند پر برہم،ریمارکس کو تاریخ کی توہین قرار دیا

نواب نجف علی خان نے کہا کہ نظام آباد کو زرعی اور صنعتی مرکز بنانے میں بھی نظام کا بڑا کردار رہا ہے۔ نظام ساگر ڈیم، نظام شوگر فیکٹری اور ریلوے نیٹ ورک اسی دور کی یادگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج یہ ادارے زوال کا شکار ہیں تو اس کی ذمہ داری بعد کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ تاریخی شخصیات پر۔

حیدرآباد: ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے پوتے نواب نجف علی خان نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام حیدرآباد کے خلاف دیا گیا بیان نہایت قابلِ اعتراض، قابلِ مذمت اور ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کے شایانِ شان نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

نواب نجف علی خان نے کہا کہ نظام آباد ضلع کا نام بدل کر اندور رکھنے کا معاملہ ایک الگ انتظامی فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے 58 سال پہلے انتقال کر جانے والے ساتویں نظام کا نام گھسیٹنا تاریخی لاعلمی یا دانستہ بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی زبان تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے اور نہ صرف ایک عظیم شخصیت بلکہ پوری قوم کی اجتماعی یادداشت کی توہین ہے۔ نواب نجف علی خان نے کہا کہ ساتویں نظام نے انسانیت، تعلیم، صحت، ترقی، امن اور بھائی چارے کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں، جو دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ساتویں نظام ذات اور مذہب سے بالاتر ہو کر تمام طبقات کی خدمت کرتے تھے اور انہیں ہندوستان کے سب سے سیکولر حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نظام کے انتقال پر ریاستی حکومت نے خصوصی گزٹ جاری کیا تھا اور ان کے جنازے میں تمام مذاہب کے لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔

نواب نجف علی خان نے کہا کہ نظام آباد کو زرعی اور صنعتی مرکز بنانے میں بھی نظام کا بڑا کردار رہا ہے۔ نظام ساگر ڈیم، نظام شوگر فیکٹری اور ریلوے نیٹ ورک اسی دور کی یادگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج یہ ادارے زوال کا شکار ہیں تو اس کی ذمہ داری بعد کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ تاریخی شخصیات پر۔

واضح رہے کہ بی جے پی کے ایم پی ڈی اروند نے 9 جنوری کو کہا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو نظام آباد ضلع کا نام بدل کر اندور رکھا جائے گا۔