حیدرآباد

حیدرآباد میں دل چیردینےوالا واقعہ، نشہ کے عادی باپ نے اپنے ہی معصوم بیٹے سید ارمان کی لے لی جان

چار سالہ ارمان کی موت نے خاندان کو غم میں ڈبو دیا ہے، جبکہ ملزم کی والدہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ اہل خانہ اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں توڑتے بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں پیش آنے والے ایک دل چیر دینے والے واقعے نے ہر آنکھ نم کردی، جہاں نشے کی حالت میں ایک باپ کی مبینہ بے رحمی نے اس کے اپنے ہی چار سالہ معصوم بیٹے کی جان لے لی۔ پانچ اگست کو باپ کے حملے میں شدید زخمی ہونے والا کم سن بچہ گزشتہ چار روز سے زیرِ علاج تھا، تاہم آج وہ زندگی کی جنگ ہار گیا۔

اطلاعات کے مطابق خاندانی تنازعے کے دوران 25 سالہ سید سلمان نے مبینہ طور پر اپنے چار سالہ بیٹے سید ارمان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ پانچ اگست کو ملزم اپنے بیوی اور بچے کے ساتھ گڈی ملکاپور پہنچا، جہاں مبینہ طور پر اس نے بچے کو پی وی این آر ایکسپریس وے کے ایک ستون کے قریب لے جاکر اس کے سر پر حملہ کیا اور بعد ازاں اسے زمین پر پٹک دیا۔

شدید زخمی ہونے کے بعد چار سالہ ارمان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ گزشتہ چار دنوں سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود آج اس کی موت ہوگئی۔

مقامی افراد کے مطابق واقعے سے قبل میاں اور بیوی کے درمیان بحث ہوئی تھی، جس کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ ملزم کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چار اگست کی شام بھی سلمان نے اپنی اہلیہ اور بچے کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ اگلی صبح گڈی ملکاپور پہنچنے کے بعد اس نے بچے پر دوبارہ حملہ کیا، جو بالآخر اس کی موت کا سبب بن گیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی ایک انتہائی تکلیف دہ تصویر پیش کرتا ہے کہ ایک باپ کے لیے اس کی اولاد کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ عام طور پر بچے کو معمولی سی چوٹ لگ جائے تو باپ کا دل تڑپ اٹھتا ہے، لیکن نشے کی لت اور غصے نے مبینہ طور پر ایک باپ کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں اس کے اپنے ہاتھ ہی اس کے معصوم بیٹے کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔

چار سالہ ارمان کی موت نے خاندان کو غم میں ڈبو دیا ہے، جبکہ ملزم کی والدہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ اہل خانہ اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں توڑتے بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

حیدرآباد میں نشے کی لت سے جڑے جرائم کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نشے کے عادی افراد کی جانب سے تشدد اور جرائم کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نشے کی لت میں مبتلا افراد کی روک تھام، علاج اور ایسے افراد کی جانب سے ممکنہ جرائم کے سدباب کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ مستقبل میں کسی معصوم کی جان خطرے میں نہ پڑے۔

چار سالہ ارمان کی موت صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو معاشرے سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ نشے اور تشدد کی لعنت کے خلاف مزید کتنی جانیں قربان ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔