حیدرآباد

گاندھی اسپتال میں مریضوں کو 4 گھنٹے انتظار، عملے کے مبینہ رویے پر برہمی

گاندھی اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے رشتہ داروں نے طبی عملے اور ڈاکٹروں کے مبینہ لاپرواہ رویے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ مریضوں کا الزام ہے کہ انہیں علاج اور طبی توجہ کے لیے کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

حیدرآباد: گاندھی اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے رشتہ داروں نے طبی عملے اور ڈاکٹروں کے مبینہ لاپرواہ رویے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ مریضوں کا الزام ہے کہ انہیں علاج اور طبی توجہ کے لیے کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ مریضوں کے مطابق بعض افراد تقریباً چار گھنٹے تک اسپتال میں انتظار کرتے رہے، تاہم انہیں بروقت طبی امداد نہیں مل سکی۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے عملے سے تاخیر کے بارے میں دریافت کیا تو مبینہ طور پر انہیں یہ جواب دیا گیا کہ "اگر صبر نہیں ہے تو چلے جائیں۔”

مبینہ جواب پر مریضوں اور ان کے رشتہ داروں میں شدید برہمی پائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گاندھی اسپتال میں بڑی تعداد میں غریب اور متوسط طبقے کے افراد علاج کے لیے آتے ہیں اور انہیں مناسب توجہ اور احترام ملنا چاہیے۔

مریضوں نے طبی عملے کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی طبی اہلکار میں مریضوں کے ساتھ صبر اور ہمدردی سے پیش آنے کی صلاحیت نہیں ہے تو وہ اسپتال میں خدمات کیوں انجام دے رہا ہے۔

متاثرین نے اسپتال انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مریضوں کو درپیش مشکلات کا فوری نوٹس لیا جائے، علاج میں غیرضروری تاخیر کو دور کیا جائے اور طبی عملے کو مریضوں کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی جائے۔

اس واقعے نے سرکاری اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی خدمات کے معیار سے متعلق ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

تاہم، مریضوں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور گاندھی اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔