دہلی

راہول گاندھی نے موٹرسیکل ٹھیک کرنے والوں کے ساتھ ویڈیوجاری کیا

ویڈیو میں راہول گاندھی کو یہ کہتے سناجاسکتا ہے کہ ان کے پاس KTM-390 موٹرسائیکل ہے جو پارکنگ میں پڑی ہے کیونکہ ان کی سیکیوریٹی والے انہیں یہ گاڑی چلانے نہیں دیتے۔

نئی دہلی:کانگریس قائد راہول گاندھی نے اتوار کے دن کہا کہ ملک میں میکانکوں کو با اختیاربنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی آٹوموبائل صنعت مستحکم ہو۔ انہوں نے دہلی کے خرول باغ میں موٹرسائیکل میکانکوں کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کا ویڈیوشیئر کیا۔

متعلقہ خبریں
الکٹورل بانڈس سے متعلق سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ: شجاعت علی صوفی
مودی کے رام راج میں دلتوں کو نوکری نہیں ملتی: راہول گاندھی
انڈیا بلاک کی حکومت بننے پر 50 فیصد ریزرویشن کی حد برخاست کردینے راہول گاندھی کا وعدہ
کے ٹی آر کو مانیکم ٹیگور کی ہتک عزت نوٹس
راہول گاندھی کے ڈپلیکیٹ کا عنقریب انکشاف کروں گا: چیف منسٹر آسام

راہول گاندھی نے 27جون کو میکانکوں سے کھل کربات چیت کی تھی۔انہوں نے جھک کر گاڑی کی سرویسنگ ہوتے دیکھی تھی اور میکانکوں کے سوالوں کے جواب دئیے تھے۔ ویڈیو میں راہول گاندھی کو یہ کہتے سناجاسکتا ہے کہ ان کے پاس KTM-390 موٹرسائیکل ہے جو پارکنگ میں پڑی ہے کیونکہ ان کی سیکیوریٹی والے انہیں یہ گاڑی چلانے نہیں دیتے۔

راہول گاندھی نے میکانکوں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ ایک میکانک نے ان سے پوچھا کہ وہ کب شادی کریں گے؟‘ سابق صدرکانگریس نے جواب دیاکہ دیکھتے ہیں۔ بائیکرس مارکٹ میں راہول گاندھی نے لوگوں سے بات چیت کی اور امیدشاہ‘ وکی سین اور منوج پاسوان کے ساتھ ایک موٹرسائیکل کی سرویسنگ کی۔

 انہوں نے ہندی میں ٹوئٹ کیاکہ ہندوستان کی آٹوموبائیل صنعت کو مستحکم کرنے ملک کے میکانکوں کو بااختیاربنانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس قائد نے کہا کہ میں نے میکانکوں کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کے خواب جاننے کی کوشش کی۔

 سینئر میکانک امیدشاہ نے مجھے گاڑی کی سرویسنگ سکھائی اور کہا کہ غربت کی وجہ سے اس نے تعلیم روک دی تھی اور کئی دہے قبل اپنے بڑے بھائی کی طرح میکانک بن گیا۔ پاسوان اور سین نے بتایاکہ انہیں اس پیشہ سے بہت کم آمدنی ہوتی ہے اور وہ لوگ اپنی فیملی لائف کی ذمہ داریوں کی وجہ سے پریشان ہیں۔

راہول گاندھی نے کہا کہ میں نے‘ کئی دیگرکوبھی ایسے ہی مسائل کا شکارپایا۔ یہ لوگ گزربسر کیلئے اپنی صحت کی قیمت پر کڑی محنت کررہے ہیں۔ ہمارے میکانک آٹوموبائل صنعت کی بقاء کیلئے کڑی محنت کررہے ہیں۔ یہ لوگ بہترسہولتوں اور بہترمواقع کے حقدار ہیں۔