حیدرآباد

راجہ سنگھ کامستقبل غیریقینی صورتحال سے دوچار؟

8ماہ گزرجانے کے بعد بھی بی جے پی ہائی کمانڈنے معطلی کے فیصلہ کو منسوخ نہیں کیاہے جس کی وجہ سے قیاس آرائیوں کابازار گرم ہے کہ راجہ سنگھ کیا بی جے پی میں برقراررہیں گے یاپھر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔

حیدرآباد: حیدرآبادمیں بی جے پی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے واحد رکن اسمبلی راجہ سنگھ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ اگست میں متنازعہ بیان دینے کی پاداش میں انہیں پارٹی سے معطل کردیاگیاتھا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد: جامعۃ المؤمنات میں شب قدر کی محفل، مولانا صابر پاشاہ قادری کے خطاب نے دل جیت لیے
راجہ سنگھ کو حلقہ لوک سبھا ظہیرآباد سے الیکشن لڑنے پارٹی کا مشورہ
جمعتہ الوداع: احساس اور عبادت کا دن – مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
رمضان المبارک میں صدقات، خیرات اور محاسبہ نفس: ایک روحانی سفرتحریر: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی قدر کریں، دعاؤں اور نیکیوں میں وقت گزاریں: مولانا مفتی صابر پاشاہ قادری

8ماہ گزرجانے کے بعد بھی بی جے پی ہائی کمانڈنے معطلی کے فیصلہ کو منسوخ نہیں کیاہے جس کی وجہ سے قیاس آرائیوں کابازار گرم ہے کہ راجہ سنگھ کیا بی جے پی میں برقراررہیں گے یاپھر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔

اطلاعات کے مطابق راجہ سنگھ نے اپنے قریبی رفقاء پرواضح کردیاہے کہ اگر انہیں بی جے پی ٹکٹ دینے سے انکار کرتی ہے تووہ مکمل طورپرمذہبی سرگرمیوں سے جڑجائیں گے۔ وہ بطور آزاد امیدوار میدان میں اترنے اور قسمت آزمائی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

 راجہ سنگھ کی پارٹی سے معطلی کوبرخواست کرنے کے متعلق ہائی کمانڈکی جانب سے ابھی تک کسی نتیجہ پر نہ پہنچنے سے گوشہ محل حلقہ اسمبلی کے پارٹی کارکن تدبذب کا شکار ہیں جب راجہ سنگھ کوگرفتار کرتے ہوئے جیل بھیجاگیاتھا تب ان کے حامیوں کی جانب سے چھوٹے پیمانے پر احتجاج ضرور کیاگیاتھا۔

ان کی اہلیہ نے دہلی جاکر پارٹی ہائی کمانڈ سے معطلی منسوخ کرنے کی خواہش کی تھی اس کے باوجود ہائی کمانڈ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان حالات میں جب انتخابات کے لئے صرف 7مہینہ باقی رہ گئے ہیں۔

راجہ سنگھ دوبارہ انتخابات میں حصہ لیں گے یانہیں اس کے متعلق پارٹی قائدین اورکارکنوں میں تجس پایا جارہا ہے۔ یہاں اس بات کاتذکرہ بھی ضروری ہے کہ 2020جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی جے پی نے راجہ سنگھ کی رائے حاصل کیئے بغیر امیدواروں کے ناموں کااعلان کیاتھا۔

اس وقت راجہ سنگھ نے انہیں نظرانداز کردینے کا الزام لگاتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ان کی جانب سے تجویزکردہ ناموں کونظر انداز کرنے کاالزام لگایاتھا۔ بتایا جارہاہے کہ راجہ سنگھ اب بھی پرامید ہیں کہ گوشہ محل سے پھر ایک بار انہیں امیدوار بنایا جائے گا۔

 انہوں نے واضح کیاکہ پارٹی کے فیصلہ پران کا سیاسی مستقبل منحصر ہے۔ وہ بطور آزاد امیدوار مقابلہ نہیں کریں گے۔وہ مذہبی خدمات کے لئے خودکووقف کردیں گے اور پارٹی کے سچے سپاہی کی طرح کام کریں گے۔

دوسری طرف ان خبروں کے درمیان حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے پارٹی کے ٹکٹ کے خواہشمندافرادکی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے۔ سابق وزیر مکیش گوڑ کے فرزند وکرم گوڑ‘بھگونت راؤاور رکن بلدیہ شنکر یادو کی جانب سے ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔