40 مسافروں کی جان بچا کر دنیا سے رخصت ہونے والا آر ٹی سی ڈرائیور، دل کا دورہ پڑنے کے باوجود بس کو بحفاظت سڑک کنارے روک دیا
آندھرا پردیش میں انسانیت اور فرض شناسی کی ایک دل کو چھو لینے والی مثال سامنے آئی ہے، جہاں کاکیناڈا سے وشاکھاپٹنم جانے والی آر ٹی سی بس کے ڈرائیور شیوا نے دل کا دورہ پڑنے کے باوجود اپنی حاضر دماغی سے تقریباً 40 مسافروں کی جان بچا لی، تاہم اس کے بعد وہ خود زندگی کی بازی ہار گئے۔
آندھرا پردیش: آندھرا پردیش میں انسانیت اور فرض شناسی کی ایک دل کو چھو لینے والی مثال سامنے آئی ہے، جہاں کاکیناڈا سے وشاکھاپٹنم جانے والی آر ٹی سی بس کے ڈرائیور شیوا نے دل کا دورہ پڑنے کے باوجود اپنی حاضر دماغی سے تقریباً 40 مسافروں کی جان بچا لی، تاہم اس کے بعد وہ خود زندگی کی بازی ہار گئے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، شیوا کاکیناڈا سے وشاکھاپٹنم کے درمیان بس چلا رہے تھے کہ اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا۔ شدید تکلیف اور زندگی کے نازک ترین لمحات کے باوجود انہوں نے بس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔
اطلاعات کے مطابق، شیوا نے اس نازک صورت حال میں بھی اسٹیئرنگ کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور بڑی احتیاط کے ساتھ بس کو سڑک کے کنارے روک دیا۔ ان کی بروقت کارروائی سے بس میں سوار تقریباً 40 مسافر ممکنہ حادثے سے محفوظ رہے۔
مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے بعد ڈرائیور شیوا دل کا دورہ پڑنے کے باعث جانبر نہ ہوسکے۔
شیوا کی اس قربانی اور فرض شناسی کی خبر نے لوگوں کو غمزدہ کردیا ہے۔ ان کے اس عمل کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر مسافروں کی سلامتی کو ترجیح دی۔
یہ واقعہ سڑک پر اچانک طبی ایمرجنسی پیش آنے کی صورت میں فوری طبی امداد اور ہنگامی انتظامات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
واقعے سے متعلق آر ٹی سی حکام کے سرکاری بیان اور دیگر تفصیلات کا انتظار ہے۔