حیدرآباد

حیدرآباد سے سینئر صحافی کو آندھرا پردیش پولیس نے گرفتار کیا

صحافی نے الزام لگایا کہ پولیس بغیر پیشگی نوٹس یا سرچ وارنٹ کے ان کے گھر داخل ہوئی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کس کیس میں یہ کارروائی ہو رہی ہے تو پولیس نے صرف اتنا بتایا کہ ایف آئی آر درج ہے لیکن کیس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

حیدرآباد: سینئر صحافی کے سرینواس راؤ کو آندھرا پردیش پولیس نے گرفتار کر لیا۔پیر کی صبح پولیس ملازمین سادہ لباس میں حیدرآباد کی جرنلسٹ کالونی میں واقع اُن کے مکان پر پہنچے اور انہیں حراست میں لے لیا جس کے بعد انہیں آندھرا پردیش منتقل کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
جعلی جنرل انشورنس پالیسی کا ریاکٹ بے نقاب، 3 ملزمین گرفتار
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف

ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری آندھرا پردیش کے دارلحکومت امراوتی کی خواتین کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس کے سلسلے میں عمل میں آئی ہے۔

صحافی نے الزام لگایا کہ پولیس بغیر پیشگی نوٹس یا سرچ وارنٹ کے ان کے گھر داخل ہوئی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کس کیس میں یہ کارروائی ہو رہی ہے تو پولیس نے صرف اتنا بتایا کہ ایف آئی آر درج ہے لیکن کیس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

بعد ازاں انہیں حراست میں لے کر ریاست آندھرا پردیش لے جایا گیا۔ اس موقع پر انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا میں ایک سینئر صحافی ہوں میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟

اگر ایک سینئر صحافی کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟” انھوں نے الزام لگایا کہ یہ سب حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔