ٹرمپ کے بیان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، سینسیکس 1500 پوائنٹس لڑھکا
قوم سے اپنے خطاب میں مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف مشن میں اپنے بنیادی مقاصد حاصل کر لیے ہیں لیکن اگلے دو سے تین ہفتوں میں حملے تیز کیے جائیں گے۔ ان کے بیان کے بعد، سرمایہ کار جنہوں نے جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کی تھی، مایوسی کا شکار ہو گئے اور اسٹاک مارکیٹوں میں فروخت دیکھی گئی۔
ممبئی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران جنگ پر بیان کے بعد جمعرات کو دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ دیکھی گئی اور مقامی طور پر بی ایس ای کا سینسیکس 1500 پوائنٹس سے زیادہ گر گیا۔
سینسیکس 872.27 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 72,262.05 پر کھلا اور کچھ ہی منٹوں میں تقریباً 1,525 پوائنٹس گر کر 71,608.05 پر آگیا۔ خبر لکھے جانے کے وقت یہ 1,473.37 پوائنٹس (2.01 فیصد) کی کمی کے ساتھ 71,660.95 پر رہا۔
قوم سے اپنے خطاب میں مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف مشن میں اپنے بنیادی مقاصد حاصل کر لیے ہیں لیکن اگلے دو سے تین ہفتوں میں حملے تیز کیے جائیں گے۔ ان کے بیان کے بعد، سرمایہ کار جنہوں نے جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کی تھی، مایوسی کا شکار ہو گئے اور اسٹاک مارکیٹوں میں فروخت دیکھی گئی۔
نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 50 انڈیکس بھی 296 پوائنٹس گر کر 22,383.40 پر کھلا۔ تادم تحریر یہ 460.70 پوائنٹس یعنی 2.03 فیصد کمی کے ساتھ 22,218.70 پر تھا۔
اسٹاک مارکیٹ میں فی الحال چوطرفہ فروخت دیکھی جارہی ہے۔ بینکنگ، فارما، ہیلتھ، رئیلٹی، کنزیومر ڈیوربل، آٹو، فنانس، میٹلز، میڈیا، آئل اینڈ گیس اور کیمیکل سیکٹرز شدید دباؤ میں ہیں۔
سینسیکس کی تمام 30 کمپنیاں فی الحال گراوٹ کا شکار ہیں۔ ایئر لائن انڈیگو اور دوا ساز کمپنی سن فارما کے حصص چار فیصد سے زیادہ نیچے ٹریڈ کر رہے ہیں۔ اڈانی پورٹس، ایل اینڈ ٹی، ایٹرنل اور ٹاٹا اسٹیل کے حصص تین سے چار فیصد گرچکے ہیں۔