تلنگانہ

نارائن پیٹ میں ریت کی منتقلی پر سخت ضابطے، اجازت لازمی قرار

ضلع کلکٹر پرتیک جین نے ضلع میں ریت کی منتقلی کے عمل کو منظم اور شفاف بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شناخت شدہ مقامات کے علاوہ ریونیو اور واٹر شیڈ حدود میں واقع چیک ڈیمز سے ریت کی منتقلی کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔

نارائن پیٹ: ضلع کلکٹر پرتیک جین نے ضلع میں ریت کی منتقلی کے عمل کو منظم اور شفاف بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شناخت شدہ مقامات کے علاوہ ریونیو اور واٹر شیڈ حدود میں واقع چیک ڈیمز سے ریت کی منتقلی کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔

یہ ہدایات انہوں نے کلکٹریٹ کے ویڈیو کانفرنس ہال میں منعقدہ ضلع سطحی سینڈ کمیٹی (DLSC) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں، جو گوگل میٹ کے ذریعے منعقد ہوا۔ اجلاس میں مائننگ، ریونیو، زیر زمین آبی وسائل، سروے اینڈ لینڈ ریکارڈس، آبپاشی اور محکمہ زراعت کے افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر مختلف محکموں کے افسران نے ریت کی منتقلی سے متعلق اپنی رپورٹس اور تجاویز پیش کیں۔ ماگنور، اٹکور، مکتھل، دھنواڈہ، گوٹور اور کوتھاپلی علاقوں سے ریت کی منتقلی کے لیے تجاویز سامنے آئیں۔ ضلع کلکٹر نے ہدایت دی کہ تمام متعلقہ محکمے مشترکہ طور پر زمینی معائنہ کریں اور مکمل شفافیت کے ساتھ اپنی رپورٹس پیش کریں۔

اجلاس کے دوران کلکٹر نے بعض تحصیلداروں کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے کی ہدایت دی۔

بعد ازاں ایک علیحدہ اجلاس میں ضلع کلکٹر نے زیر زمین پانی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ اس اجلاس میں زیر زمین پانی کے استعمال، دستیابی اور درجہ بندی کے علاوہ دیہی و شہری علاقوں میں بارش کے پانی کے ذخیرہ اور پانی کے تحفظ کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محکمہ زیر زمین آبی وسائل کے افسران نے بتایا کہ زراعت میں زیر زمین پانی پر انحصار کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے محدود استعمال کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ضلع کلکٹر پرتیک جین نے کہا کہ پانی پیدا نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کا تحفظ ممکن ہے، لہٰذا بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے اور ذخیرہ کرنے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کا تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے۔

اجلاس کے اختتام پر ضلع کلکٹر کے ہاتھوں نارائن پیٹ ضلع کے زیر زمین آبی وسائل سے متعلق ایک کتاب کا رسمِ اجراء بھی عمل میں آیا۔