خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ حلقہ بندی بل کو جوڑنا مرکز کی بڑی سازش: کویتا
بنجارا ہلز میں واقع تلنگانہ جاگرتی دفتر سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کویتا نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث خواتین کے لیے ایک اہم موقع ہے، لیکن اسے حلقہ بندی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش گمراہ کن اور سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ جاگرتی پارٹی کی صدر کلواکنتلا کویتا نے جمعرات کو الزام لگایا کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈیلمیٹیشن) بل کو خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ جوڑنا مرکز کی ایک "بڑی سازش” ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تلنگانہ کی سیاسی نمائندگی کو کم کرنے والا کوئی بھی قدم ریاست میں ایک اور عوامی تحریک کو جنم دے سکتا ہے۔
بنجارا ہلز میں واقع تلنگانہ جاگرتی دفتر سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کویتا نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث خواتین کے لیے ایک اہم موقع ہے، لیکن اسے حلقہ بندی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش گمراہ کن اور سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل اور حلقہ بندی دو الگ الگ مسائل ہیں۔ انہوں نے مرکز پر الزام لگایا کہ وہ حلقہ بندی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے "خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال” کر رہا ہے۔۔
محترمہ کویتا نے پارلیمانی حلقوں کی تعداد میں 50 فیصد تک اضافے کی تجویز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ بظاہر منصفانہ لگتا ہے، لیکن اس کا تلنگانہ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار جیسے ریاستوں کے مقابلے میں تلنگانہ کی نشستوں کا حصہ غیر متناسب طور پر کم ہو سکتا ہے، جس سے اس کی سیاسی اہمیت گھٹ جائے گی۔
جاگرتی لیڈر نے زور دیا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں تلنگانہ کی نمائندگی 3.13 فیصد ہے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ حلقہ بندی کے بعد بھی یہ تناسب برقرار رہے، چاہے کوئی بھی معیار اپنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا، "اگر تلنگانہ کی سیاسی اہمیت کم کی گئی تو ریاست کے قیام جیسی ایک اور تحریک ناگزیر ہو جائے گی۔”
محترمہ کویتا نے واجب الادا رقوم جاری نہ کرنے اور ریاست کی اہم اسکیموں کو قومی منصوبے کا درجہ نہ دینے پر بھی مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اہمیت میں مزید کمی سے صورتحال اور خراب ہو جائے گی۔