تلنگانہ

تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہائیڈرا پر سخت برہمی، نوٹس جاری کیے بغیر انہدامی کارروائی پر سوالات

یہ ریمارکس عدالت نے پیمّاسانی سدھارانی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران کیے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رنگا ریڈی ضلع کے سرلنگم پلی منڈل کے کونڈاپور میں واقع سروے نمبر 60 میں ان کے 350 مربع گز کے پلاٹ کے گرد تعمیر کی گئی باؤنڈری وال اور چوکیدار کے کمرے کو ہائیڈرا نے منہدم کر دیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے کونڈاپور میں مبینہ طور پر نوٹس جاری کیے بغیر کی گئی انہدامی کارروائی پر ہائیڈرا (HYDRAA) اور محکمۂ ریونیو کے عہدیداروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کے طریقۂ کار پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ ریمارکس عدالت نے پیمّاسانی سدھارانی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران کیے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رنگا ریڈی ضلع کے سرلنگم پلی منڈل کے کونڈاپور میں واقع سروے نمبر 60 میں ان کے 350 مربع گز کے پلاٹ کے گرد تعمیر کی گئی باؤنڈری وال اور چوکیدار کے کمرے کو ہائیڈرا نے منہدم کر دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہدامی کارروائی سے قبل کسی بھی قسم کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہائیڈرا کی جانب سے عدالت میں داخل کیے گئے جواب (کاؤنٹر) میں بھی کہیں یہ ذکر موجود نہیں کہ متاثرہ فریق کو پیشگی نوٹس دیا گیا تھا۔

اس پر ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے، "یہ کیا طریقہ ہے کہ نوٹس دیے بغیر انہدامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں؟ کیا اس لیے نوٹس نہیں دیے جاتے کہ متاثرہ افراد عدالت سے رجوع نہ کر سکیں؟ کیا راتوں رات سب کچھ گرا دیا جائے اور لوگوں کو قانونی چارہ جوئی کا موقع بھی نہ ملے؟”

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ متعلقہ اراضی کو سرکاری زمین قرار دینے کی تصدیق کس بنیاد پر کی گئی۔ موجودہ منڈل ریونیو آفیسر (ایم آر او) نے عدالت کو بتایا کہ ان سے پہلے تعینات ایم آر او نے اس زمین کو سرکاری اراضی قرار دیا تھا۔

اس پر ہائی کورٹ نے متعلقہ سابق ایم آر او کو تمام اصل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی۔