حیدرآباد

تلنگانہ میں آندھرا کے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جارہا ہے، ریونت ریڈی پر کویتا نے لگائے کئی بڑے الزامات

رکن کونسل کے کویتا، جو بی آر ایس سربراہ اور سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی ہیں، نے کہا کہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) لیڈر کے کویتا نے آج الزام لگایا کہ تلنگانہ حکومت نے تلنگانہ کی پاور یوٹیلیٹز کے ڈائرکٹر کے علاوہ تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے مشیر اور ارکان کے عہدوں پر آندھراپردیش کے عہدیداروں اور سیاست دانوں کو مقرر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں تنہا کامیابی حاصل کرنے بی جے پی کو شاں: ترون چگھ
ماہ صیام کا آغاز، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
جی او 3 سے خواتین کے حقوق سلب کرنے کی کوشش: کویتا
41 برسوں کے بعد کسی وزیراعظم کا دورہ عادل آباد
تلنگانہ میں ٹی ایس کے بجائے ٹی جی استعمال کی ہدایت، احکام جاری

رکن کونسل کے کویتا، جو بی آر ایس سربراہ اور سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی ہیں، نے کہا کہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ آندھراپردیش کے عہدیداروں کی بطور ڈائریکٹر پاور یوٹیلیٹیز تقرری کے بعد ریاست میں روزانہ دو گھنٹے بجلی کی کٹوتی شروع ہوگئی ہے۔

بی آر ایس ایم ایل سی نے مشیروں کے تقرر پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یاد دلایا کہ جب بی آر ایس اقتدار میں تھی تو اے ریونت ریڈی مشیروں کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالت پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے ریونت ریڈی سے پوچھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے بہت سے مشیروں کا تقرر کیا ہے۔ کیا آپ نے حکومت میں آنے کے بعد بیروزگار سیاسی قائدین کو سیاسی بازآبادکاری اور بحالی کے لئے مشیر نہیں بنایا؟

بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ اسمبلی میں مشیر کا ایک نیا عہدہ ایک ایسے شخص کے تقرر کے لئے بنایا گیا ہے جس کا تعلق آندھراپردیش سے ہے جو ہمیں تلنگانہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرسنا کمار نے کبھی حکومت میں کام نہیں کیا۔

کویتا نے آندھراپردیش سے ہی تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کو اہم عہدہ پر مقرر کرنے پر ریونت ریڈی حکومت پر تنقید کی جس نے پہلے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن (ٹی ایس پی ایس سی) کے رکن کے طور پر تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) میں کام کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے سپریم کورٹ میں ریاستی وکلاء کے طور پر اپنے ذاتی وکلاء کی ایک ٹیم کو بھی مقرر کیا ہے۔ کویتا نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ میں مقرر کردہ تینوں وکلا نے ووٹ برائے نوٹ کیس میں ریونت ریڈی کی پیروی کی تھی۔

کویتا نے مطالبہ کیا کہ سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایم مہندر ریڈی کو ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے پیش نظر ٹی ایس پی ایس سی کے صدرنشین کے عہدہ سے برطرف کیا جائے۔