تلنگانہ

تلنگانہ: بی آر ایس کی ریلی کے موقع پر کشیدگی۔کئی قائدین اورکارکن گرفتار

پولیس نے اس ریلی کے لیے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور پارٹی کارکنوں کو مختلف مقامات پر روک کر گرفتار کر لیا، جس کی وجہ سے سکندرآباد اور اس کے گردونواح میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ بی آر ایس نے آج سکندرآباد کی شناخت اور عزت نفس کے نعرہ کے ساتھ بڑے پیمانہ پر احتجاج کی اپیل کی تھی۔

حیدرآباد: سکندرآباد کی تاریخی وراثت کے تحفظ اور اس علاقہ کو علحدہ میونسپل کارپوریشن قرار دینے کے مطالبہ پر تلنگانہ کی اصل اپوزیشن بی آرایس کی جانب سے نکالی گئی ریلی شدید تناؤ اور کشیدگی کا باعث بن گئی۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
چند طاقتیں عوام میں پھوٹ ڈالنے کیلئے کوشاں: ریونت ریڈی
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر


پولیس نے اس ریلی کے لیے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور پارٹی کارکنوں کو مختلف مقامات پر روک کر گرفتار کر لیا، جس کی وجہ سے سکندرآباد اور اس کے گردونواح میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ بی آر ایس نے آج سکندرآباد کی شناخت اور عزت نفس کے نعرہ کے ساتھ بڑے پیمانہ پر احتجاج کی اپیل کی تھی۔


پروگرام کے مطابق یہ ریلی صبح 10 بجے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر کلاک ٹاور، پیاٹنی اور پیراڈائز سرکل سے ہوتے ہوئے ایم جی روڈ پر واقع گاندھی مجسمہ تک جانے والی تھی تاہم امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے ریلی کی اجازت نہیں دی اور صبح ہی ریلوے اسٹیشن اور پیاٹنی سنٹر جیسے علاقوں میں بھاری پولیس نفری تعینات کر دی گئی۔

جیسے ہی بی آر ایس کارکن اور قائدین سیاہ پٹیاں باندھ کر جمع ہونا شروع ہوئے، پولیس نے انہیں زبردستی حراست میں لینا شروع کر دیا ۔


ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع الفا ہوٹل میں داخل ہو کر بھی پولیس نے وہاں موجود پارٹی کارکنوں کو پولیس وین میں منتقل کیا۔ اس دوران پولیس اور بی آر ایس کارکنوں کے درمیان شدید بحث و تکرار ہوئی۔ بی آر ایس قائدین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کے جمہوری حق کو کچلا جا رہا ہے۔

اس احتجاج کے پیش نظر پولیس نے سکندرآباد کی طرف آنے والی ہر گاڑی کی مکمل تلاشی لی اور گرفتار شدگان کو شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کر دیا گیا۔