تلنگانہ

تلنگانہ کی کانگریس حکومت کا پہلا بجٹ، توقعات زیادہ، ضمانتوں اور انتخابی وعدوں پر عمل کو ترجیح دی جائے گی

تلنگانہ کی کانگریس حکومت بجٹ کی تیاری کے اقدامات کررہی ہے۔تقریبا دس سال کے بعد اس تلگو ریاست میں برسراقتدارآئی کانگریس کے پہلے بجٹ سے تمام کو کئی توقعات ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی کانگریس حکومت بجٹ کی تیاری کے اقدامات کررہی ہے۔تقریبا دس سال کے بعد اس تلگو ریاست میں برسراقتدارآئی کانگریس کے پہلے بجٹ سے تمام کو کئی توقعات ہیں۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
فلم ”گیم چینجر“کے اضافی شوز اور ٹکٹ قیمتوں میں اضافہ کی اجازت سے حکومت دستبردار، احکام جاری
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

ذرائع کے مطابق فائنانس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جلد ہی اس خصوص میں ٹیکس تجاویز پر خصوصی اجلاس منعقد کیاجائے گا۔ ریونت ریڈی حکومت کی ترجیحات کے مطابق ضمانتوں اور انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کو ترجیح دی جائے گی۔

ساتھ ہی ملازمتوں کو پُرکرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔محکمہ فائنانس نے آئندہ مالی سال کے لئے تمام محکموں سے تجاویز طلب کی ہیں اور حکومت کی ترجیحات کے مطابق متعلقہ محکموں نے تجاویز بھیج دی ہیں۔

ریونت ریڈی حکومت نے پہلے ہی دو ضمانتوں پر کامیابی کے ساتھ عمل شروع کردیا ہے۔ بقیہ پر 100 دنوں کے اندر عمل درآمد ہو جائے گا۔حکومت مزید دو ضمانتوں پر جاریہ ماہ کے اواخر تک عمل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

6ضمانتوں کے سلسلہ میں ریاست بھر میں بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان درخواستوں کی ڈاٹاانٹری کا کام ختم ہونے کے بعد ان کے نفاذ کے لئے رہنما خطوط کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اندرون ایک سال میگا ڈی ایس سی کے انعقاد کے لیے حکومت کی ہدایت کے مطابق تجویز کی تیاری کا کام کیاجائے گا جس میں دو لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔

چونکہ مرکز کی جانب سے اس سال علی الحساب بجٹ پیش کرنے کی اطلاع ہے، اس لیے ریاست کو آنے والے فنڈز کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے گی۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق تیار کی گئی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ غیر ضروری اخراجات نہ ہوں۔