مذہب

زیادہ اڈوانس کے ساتھ کم کرایہ

اڈوانس کی خطیر رقم لے کر برائے نام کرایہ متعین کرنا جائز نہیں ؛ کیوںکہ یہ قرض سے فائدہ اٹھانا ہے اورقرض پر فائدہ اٹھانا سود کے دائرہ میں آجاتا ہے ؛

سوال:- یہ معلوم ہے کہ اگر کوئی اڈوانس دے کر بغیر کرائے کے گھر یا دوکان حاصل کرتا ہے تو یہ حرام ہے ؛

متعلقہ خبریں
ماہ شعبان کی فضیلت اور اس کے اعمال
مالکِ جائیداد کی وفات کے بعد ورثاء آپس میں جائیداد بانٹ سکتے ہیں۔ اگر آپس میں کوئی اختلاف نہ ہو
اربن لینڈ سیلنگ میں فاضل اراضیات پر قبضہ جات کو باقاعدہ بنانے کا عمل معرض التواء میں پڑا ہوا ہے
جائیداد کی بذریعہ ہبہ بیٹوں، بیٹیوں میں تقسیم
اگر یکساں سیول کوڈ نافذ ہوجائے تو طلاق و خلع کے لئے تڑپنا پڑے گا

لیکن اگر کوئی معمول سے زیادہ اڈوانس دے کر کم کرایہ پر دوکان حاصل کرے تو کیا یہ جائز ہے اور کیا اس سلسلہ میں کوئی حد مقرر ہے ؟ (راشد شریف ندوی ، بنگلور)

جواب:- اڈوانس کی خطیر رقم لے کر برائے نام کرایہ متعین کرنا جائز نہیں ؛ کیوںکہ یہ قرض سے فائدہ اٹھانا ہے اورقرض پر فائدہ اٹھانا سود کے دائرہ میں آجاتا ہے ؛

البتہ اگر ایک دوکان یا مکان کا کرایہ دو ہزار سے تین ہزار روپے ماہانہ تک ہوسکتا تھا اور اڈوانس کی رقم لینے کے بعد دو ہزار روپے کرایہ طے کیا گیا تو اس کی گنجائش ہے ،

اس سلسلہ میں حد یہی ہے کہ اس علاقہ کے عرف کے مطابق اس جگہ کا جو کم سے کم کرایہ ہوسکتا ہو ، اس سے کم کرایہ نہ ہونا چاہئے ۔