دہلی

ہماچل پردیش میں کانگریس حکومت کو خطرہ لاحق ہے

ہماچل پردیش میں کانگریس حکومت کو خطرہ لاحق ہے‘ ایسے میں پارٹی نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ وہ تمام آپشنس کا اندازہ لگارہی ہے۔

نئی دہلی: ہماچل پردیش میں کانگریس حکومت کو خطرہ لاحق ہے‘ ایسے میں پارٹی نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ وہ تمام آپشنس کا اندازہ لگارہی ہے۔ وہ سخت فیصلوں سے نہیں ہچکچائے گی تاکہ عوام نے اسے جو خط ِ اعتماد دیا ہے اس کا احترام یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں
ودھان سودھا میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کی این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ
حکومتیں گرانے کا ٹھیکہ لینے والوں نے ریاست میں سیاسی بحران پیدا کیا ہے:ڈگ وجئے
سماج وادی پارٹی کے 4ارکان اسمبلی کو وائی زمرہ کی سیکیوریٹی
اقلیتی بہبود کیلئے2,262 کروڑ مختص
انتخابی وعدوں پر عدم عمل آوری پر کانگریس کو بی جے پی کا انتباہ

کانگریس کے 6 ارکان ِ اسمبلی نے ہماچل پردیش میں منگل کے دن راجیہ سبھا الیکشن میں بی جے پی امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔ نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت میں کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا کہ پارٹی صدر ملیکارجن کھرگے نے 3 سینئر مبصرین بھوپیش بگھیل‘ بھوپیندر سنگھ ہوڈا اور ڈی کے شیوکمار کو شملہ بھیجا ہے۔

اے آئی سی سی انچارج ہماچل راجیو شکلا بھی پہاڑی ریاست میں موجود ہیں۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس صدر کھرگے نے مبصرین اور شکلا سے کہا ہے کہ وہ تمام ارکان ِ اسمبلی بشمول ناراض گروپ سے بات چیت کریں‘ ان کا نقطہ نظر سنیں اور جلدازجلد جامع رپورٹ دیں۔ مستقبل کا لائحہ عمل اس کے بعد طئے ہوگا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ جمعرات کی شام تک کھرگے کو مل سکتی ہے۔ اے آئی سی سی ہیڈکوارٹرس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں جئے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس پارٹی صدر کی ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ پارٹی کو جو فیصلہ کن خطِ اعتماد ملا ہے اس کا تحفظ کیا جائے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ افراد کی اہمیت نہیں‘ پارٹی کا مفاد مقدم ہے۔ پارٹی کا مفاد عوام کا وہ خط ِ اعتماد ہے جو انہوں نے دسمبر 2022میں دیا تھا۔ بی جے پی پچھلے دروازہ سے ہماچل میں برسراقتدار آنے کی کوشش کررہی ہے۔ بھگوا جماعت نے گوا‘ مدھیہ پردیش میں یہی کچھ کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ راجیہ سبھا الیکشن میں کراس ووٹنگ کی ذمہ داری طئے کی جائے گی۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ ہماری ترجیح کانگریس حکومت کو بچانا ہے۔ ہماچل پردیش کی جنتا نے وزیراعظم نریندر مودی‘ بی جے پی صدر جے پی نڈا اور جئے رام ٹھاکر کو مسترد کردیا اور کانگریس کو واضح خط ِ اعتماد دیا۔

ہم مودی حکومت کو کانگریس حکومت گرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سارے آپشنس کھلے ہیں اور کانگریس کو ملنے والے خط ِ اعتماد کا احترام کرنا ہوگا۔ بی جے پی آپریشن لوٹس کے ذریعہ ہماچل پردیش کی جنتا کا خط ِ اعتماد چھین کر نہیں لے جاسکتی۔ کانگریس اس کے تحفظ کے تمام اقدامات کرے گی۔

کانگریس سخت فیصلے کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ کانگریس کے باغی اپنی پسند کے آدمی کو ریاست کا نیا چیف منسٹر بنانا چاہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس صدر نے راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سے ہماچل کے واقعات پر بات چیت کی۔ شملہ سے آئی اے این ایس کے بموجب چیف منسٹر ہماچل پردیش سکھویندر سنگھ سکھو نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ وہ مستعفی نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اپنی 5 سالہ میعاد پوری کرے گی۔ استعفیٰ کی خبروں پر چیف منسٹر ہماچل نے کہا کہ میں نے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ میں جنگجو ہوں اور لڑتا رہوں گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کانگریس پورے 5 سال ریاست میں برسراقتدار رہے گی۔

کابینی ساتھی وکرم آدتیہ سنگھ کے استعفیٰ پر انہوں نے کہا کہ وہ میرا بھائی ہے۔ اسے کچھ شکایتیں ہیں اور کئی مرتبہ وہ مجھ سے بات چیت کرچکا ہے۔ میں مسئلہ حل کرلوں گا۔ فی الحال ہماری ترجیح کانگریس حکومت کو بچانا ہے کیونکہ پارٹی کو دسمبر 2022 میں واضح خط ِ اعتماد ملا تھا۔

ہماچل پردیش کی جنتا نے وزیراعظم‘ جگت پرکاش نڈا‘ انوراگ ٹھاکر اور جئے رام ٹھاکر کو مسترد کردیا۔ عوام کے خط ِ اعتماد کا احترام کیا جانا چاہئے۔ مودی حکومت کی صرف ایک گارنٹی ہے‘ ساری کانگریسی حکومتیں گرادو‘ ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ کل کانگریس کے 6 ارکان کے ساتھ 3 آزاد ارکان نے بھی بی جے پی کو ودٹ دیا تھا۔ اس طرح 68 رکنی اسمبلی میں کانگریس اور بی جے پی کے پاس 34-34 ارکان ہیں۔