امریکہ و کینیڈا

سی آئی اےکاسراغ اوراسرائیل کا وار ایرانی قیادت کےخفیہ اجلاس پر حملے کی اندرونی کہانی

تہران کے ایک انتہائی محفوظ حکومتی کمپاؤنڈ میں اعلیٰ سطح کے خفیہ اجلاس کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد آپریشن کے وقت میں فوری تبدیلی کی گئی۔

واشنگٹن : امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر اور اعلیٰ عسکری قیادت کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے والا آپریشن، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے درمیان قریبی اور طویل المدتی مشترکہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

متعلقہ خبریں
سنکرانتی منانے گھر آیا نوجوان پراسرار حالات میں مردہ پایاگیا
اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 7 لاکھ افراد کا احتجاجی مظاہرہ
اسرائیلی حملہ میں لبنان میں 20 اور شمالی غزہ میں 17 جاں بحق
عالمی برادری، اسرائیلی جارحیت کے خاتمہ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے: رابطہ عالم اسلامی
ٹرمپ پر حملے کو کس زاویے سے دیکھا جارہا ہے؟ اہم رپورٹ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس آپریشن کی تیاری کئی ماہ قبل شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد ایران کے طاقتور حکومتی و عسکری ڈھانچے کو شدید نفسیاتی اور تزویراتی دھچکا پہنچانا بتایا جا رہا ہے۔

حملے کے وقت میں اچانک تبدیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر منصوبہ یہ تھا کہ کارروائی رات کے وقت انجام دی جائے، تاہم ہفتے کی صبح تہران کے ایک انتہائی محفوظ حکومتی کمپاؤنڈ میں اعلیٰ سطح کے خفیہ اجلاس کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد آپریشن کے وقت میں فوری تبدیلی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس نے غیر معمولی درستگی کے ساتھ اس بات کی نشاندہی کی کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس اجلاس میں موجود ہوں گے۔ اسی اطلاع کی بنیاد پر اسرائیلی فریق کو فوری کارروائی کے لیے گرین سگنل دیا گیا۔

مہینوں پر محیط نگرانی

آپریشن سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام طویل عرصے سے سپریم لیڈر کی نقل و حرکت، قیام گاہوں اور ملاقاتوں کے نظام پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ معلومات مزید مستند اور ہمہ جہت ہوتی چلی گئیں، یہاں تک کہ انٹیلی جنس اداروں کو اس بات کی واضح اطلاع ملی کہ ہفتے کی صبح تہران کے وسطی علاقے میں واقع ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں ایسا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں تمام کلیدی عسکری کمانڈرز اور اعلیٰ قیادت شریک ہوں گے۔

امریکہ اور اسرائیل میں غیر معمولی ہم آہنگی

نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس آپریشن میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان غیر معمولی سطح کی انٹیلی جنس ہم آہنگی دیکھنے میں آئی، جو ماضی کی کئی مشترکہ کارروائیوں سے کہیں زیادہ مربوط بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے علاقائی تناؤ، جنگ کے واضح خدشات اور ممکنہ خطرات کے باوجود، ایرانی قیادت سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت بنانے میں ناکام رہی۔ اسی مبینہ کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔

خطے پر ممکنہ اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ان رپورٹس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں اس پیش رفت کے بعد مزید سخت ردِعمل، سفارتی کشمکش اور ممکنہ جوابی اقدامات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ امریکہ اور اسرائیل بھی ان رپورٹس پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریزاں ہیں۔