سوشیل میڈیاکرناٹک

مسلم طالبہ نے حجاب اُتارکر امتحان لکھا

طالبہ نے لمحہ آخر تک اصرار جاری رکھا کہ اسے حجاب پہن کر امتحان تحریر کرنے کی اجازت دی جائے۔ حکام نے اس کی درخواستوں کو مسترد کردیا لیکن وہ بضد رہی۔ بہرحال پرنسپل نے اس سے بات کی اور اسے قواعد سے واقف کرایا۔

بنگلورو: ملیشورم پری یونیورسٹی کالج کی ایک طالبہ نے جس کا اصرار تھا کہ اسے برقعہ پہن کر امتحان تحریر کرنے کی اجازت دی جائے‘ پرنسپل کی جانب سے کونسلنگ کے بعد برقعہ اتارنے پر تیار ہوگئی اور امتحان تحریر کیا۔ ریاست بھرمیں 12 ویں جماعت کے بورڈ امتحانات کا آغاز ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں
برقعہ اور حجاب کی مخالف بی جے پی کی خاتون ایم ایل اے نے برقعے تقسیم کیے
یو جی نیٹ۔24 کیلئے درخواستوں کے ادخال کا آغاز
امتحان کی تیاری کیسے کریں، کیسے لکھیں؟ الخیر سوسائٹی کی جانب سے لکچر
ایران میں خاتون کو 74 کوڑے مارنے کی سزا پر عمل درآمد
انٹر سال اول کے ریاضی، زوالوجی اور ہسٹری امتحانات کا پرامن انعقاد

بعض طلبا نے کنڑ اور عربی مضمون کا  امتحان لکھا۔اس طالبہ نے لمحہ آخر تک اصرار جاری رکھا کہ اسے حجاب پہن کر امتحان تحریر کرنے کی اجازت دی جائے۔ حکام نے اس کی درخواستوں کو مسترد کردیا لیکن وہ بضد رہی۔ بہرحال پرنسپل نے اس سے بات کی اور اسے قواعد سے واقف کرایا۔

 انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ امتحان تحریر کرنا اس کے لئے کتنا ضروری ہے جس کے بعد وہ اسے ہٹانے پر تیار ہوگئی۔ ریاستی وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ حجاب یا مذہبی علامتوں والا لباس پہنے ہوئے طلبا کو امتحان تحریر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔