امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ جدید پی اے سی-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت 2.1 ارب ڈالر (1.6 ارب پاؤنڈ) ہوگی۔ اس کی پوری لاگت یورپ اور کینیڈا میں موجود یوکرین کے اتحادی ممالک برداشت کریں گے۔
واشنگٹن: امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ روس کے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے یوکرین کو ان ہتھیاروں کی سخت ضرورت ہے۔
تاہم، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ان میزائلوں کی فراہمی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ جدید پی اے سی-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت 2.1 ارب ڈالر (1.6 ارب پاؤنڈ) ہوگی۔ اس کی پوری لاگت یورپ اور کینیڈا میں موجود یوکرین کے اتحادی ممالک برداشت کریں گے۔
زیلنسکی نے جمعہ کی رات امریکہ سے پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی تیز کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ روس کی خطرناک بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کے لیے یہی واحد مؤثر ہتھیار ہے۔
یوکرین میں جنگ بندی کے ایک نادر موقع کے دوران روس کے قبضے والے علاقے اولیشکی سے سیکڑوں لوگوں کو بحفاظت نکالا گیا۔ روسی وزیر کی موجودگی پر احتجاج کے باعث جی-20 کی ‘فیملی فوٹو’ منسوخ کردی گئی۔
یہ پیش رفت اس ماہ کے آغاز میں زیلنسکی اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس وقت امریکہ نے روس سے ڈیزل حاصل کرنے کے ایک معاہدے کے تحت روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تھی۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یوکرین کو ایک نیا رہنما ملے، جو روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی سمجھوتہ کرسکے۔ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے کچھ حصوں پر قبضہ کرچکا تھا۔
20 اکتوبر کو اوسلو میں امریکی نمائندوں کے ساتھ زیلنسکی کی بات چیت کے بعد کشیدگی میں کچھ کمی آئی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا، ”اس مجوزہ فروخت سے ایک اتحادی ملک کی سلامتی مضبوط ہوگی، جو یورپ میں سیاسی اور اقتصادی استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کو بھی تقویت ملے گی۔”