امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں روٹے سے ملاقات، نیٹو پر تنقید

بدھ کی بات چیت سے پہلے، مسٹر ٹرمپ نے نیٹو سے نکلنے پر غور کیا تھا، کیونکہ کئی نیٹو ممالک نے تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کے لیے ان کی اپیل کی مخالفت کی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے بعد، ایران جنگ میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے پر ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا، بی بی سی نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ناٹو کو یوکرین میں فوجی تعیناتی کے خلاف روسی صدر کا انتباہ
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ


ملاقات کے بعد ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ’’جب ہمیں نیٹو کی ضرورت تھی تب وہ موجود نہیں تھے اور اگر ہمیں ان کی پھر ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں ہوں گے۔‘‘


دریں اثنا، واضح اختلافات کے باوجود مسٹر روٹے نے سی این این کو ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کو بہت واضح اور کھلا قراردیا۔


بدھ کی بات چیت سے پہلے، مسٹر ٹرمپ نے نیٹو سے نکلنے پر غور کیا تھا، کیونکہ کئی نیٹو ممالک نے تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کے لیے ان کی اپیل کی مخالفت کی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔


نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا، حالانکہ مسٹر ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات کا دورانیہ معلوم نہیں ہے۔ ملاقات کا مقصد مسٹر ٹرمپ کو یہ باور کرانا تھا کہ نیٹو اتحاد میں باقی رہنا ان کے اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔


تاہم، یہ واضح ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی اتحاد اور اس کے رکن ممالک کے بارے میں گہرے تحفظات کا شکار ہیں، ان کا خیال ہے کہ انہوں نے آپریشن ایپک فیوری سے پہلے اور اس کے دوران ان ممالک نے امریکہ کی خاطرخواہ مدد نہیں کی۔

حالیہ ہفتوں میں، مسٹر ٹرمپ نے 32 رکنی اتحاد سے دستبرداری کی مسلسل دھمکی دی۔


ایران کے ساتھ جاری تنازعہ میں نیٹو کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صدر کے براہ راست اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کا امتحان لیا گیا اور وہ ناکام رہا۔


انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک نے امریکی عوام سے منہ موڑ لیا ہے جو اپنے ممالک کے دفاع کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں اور مسٹر ٹرمپ نیٹو کے سربراہ کے ساتھ بہت صاف اور بے باک بات چیت کریں گے۔


دریں اثنا، نیٹو کے سکریٹری جنرل نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ تر یورپی ممالک نے فوجی اڈے قائم کرنے، لاجسٹک سپورٹ اور فضائی پروازوں میں مدد فراہم کی ہے۔


تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ بات اور سکریٹری جنرل کے مسٹر ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار تعلقات امریکی صدر کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔