ٹرمپ نے پیدائشی شہریت کے دائرے کو محدود کرنے اور ‘برتھ ٹورزم’ کو ختم کرنے کے احکامات پر دستخط کئے
امریکی علاقوں میں پیدا ہونے والے بچے بشرطیکہ کانگریس ان علاقوں میں خودکار شہریت ختم کرنے کی قانون سازی کرے، اور ان ماؤں کے بچے شامل ہیں جو خاص طور پر برتھ ٹورزم کے مراکز کے ذریعے صرف بچے کو جنم دینے کے مقصد سے قصداً امریکہ کا سفر کرتی ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دو ایسے انتظامی احکامات پر دستخط کئے ہیں جن کا مقصد امریکہ میں پیدائشی شہریت کے دائرہ کار کو محدود کرنا اور نام نہاد ‘برتھ ٹورزم’ کو ختم کرنا ہے۔
محکمہ نشریات کے مطابق یہ احکامات چار مخصوص زمروں میں صرف مستقبل میں ہونے والی پیدائشوں پر نافذ ہوں گے، جن میں دوسری حکومت کے لیے خدمات انجام دینے والے غیر ملکی سفارت کاروں کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے، وفاقی طور پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیموں کے اراکین سمیت ان افراد کے بچے جنہیں غیر ملکی دشمن قرار دیا گیا ہے،
امریکی علاقوں میں پیدا ہونے والے بچے بشرطیکہ کانگریس ان علاقوں میں خودکار شہریت ختم کرنے کی قانون سازی کرے، اور ان ماؤں کے بچے شامل ہیں جو خاص طور پر برتھ ٹورزم کے مراکز کے ذریعے صرف بچے کو جنم دینے کے مقصد سے قصداً امریکہ کا سفر کرتی ہیں۔
30 جون کو امریکی سپریم کورٹ نے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے عالمگیر شہریت کے حقوق منسوخ کرنے کے ٹرمپ کے اقدام کو روک دیا تھا۔
اس کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے خبردار کیا تھا کہ صرف بچے کو جنم دینے کے مقصد سے سیاحتی ویزے پر امریکہ آمد وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ حکام نے ایسے منصوبوں کو ترتیب دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے۔