امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ نے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی دی

مسٹر ٹرمپ کی یہ دھمکی ایک بڑے آپریشن کا حصہ ہے، جس کے تحت اب ایرانی فوجی اڈوں کے بجائے شہری سہولیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس میں اسٹیل پلانٹس، بجلی گھر اور دوا ساز کمپنیوں پر حملے شامل ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے امریکی فوج کو دنیا کی "سب سے طاقتور" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی ایران میں تباہی شروع ہی نہیں کی ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے مزید پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے ایران سے کہا ہے کہ جو "کیا جانا چاہیے” اسے "تیزی” سے کرے۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
جنگ بندی میں توسیع، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی شرائط نہ مانی گئیں تو وہ اس کے شہری بنیادی ڈھانچے۔ مثلاً پلوں اور بجلی کے پاور پلانٹس، کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیں گے۔


مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکی فوج نے "ابھی تک ایران میں تباہی کا عمل شروع بھی نہیں کیا ہے” اور کہا کہ "پہلے پل، پھر پاور پلانٹس” کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے لکھا کہ "اگلا نمبر پلوں کا ہے، پھر بجلی گھروں کا! ایران کی نئی حکومت جانتی ہے کہ کیا کیا جانا چاہیے اور اسے تیزی سے کرنا ہوگا۔”


مسٹر ٹرمپ کی یہ دھمکی ایک بڑے آپریشن کا حصہ ہے، جس کے تحت اب ایرانی فوجی اڈوں کے بجائے شہری سہولیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس میں اسٹیل پلانٹس، بجلی گھر اور دوا ساز کمپنیوں پر حملے شامل ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے امریکی فوج کو دنیا کی "سب سے طاقتور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی ایران میں تباہی شروع ہی نہیں کی ہے۔


اس سے قبل جمعرات کی رات مسٹر ٹرمپ نے ایران کے "سب سے بڑے پل” کو تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور اس ملک میں کچھ بھی نہ بچے، ایران کو معاہدہ کر لینا چاہیے۔


ایرانی حکام کے مطابق دارالحکومت تہران کو مغربی شہر کرج سے جوڑنے والے راستے پر واقع بی ایک پل کا کچھ حصہ کل امریکی-اسرائیلی حملے میں تباہ ہو گیا تھا۔ اس حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 95 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی میڈیا نے اسے مغربی ایشیا کا سب سے اونچا پل قرار دیا ہے، جو تہران اور کرج کے درمیان سفر کے وقت کو ایک گھنٹے سے کم کرکے 10 منٹ کرنے والا ایک اہم منصوبہ تھا۔