امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو دھکا، ریپبلکن ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی شاندار جیت
امریکی صدر ٹرمپ کو بڑا دھکا پہنچا۔امریکی رائے دہندوں نے منگل کے دن اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کو امریکی کانگریس کا کنٹرول دے دیا۔ گورنری کے اہم عہدے اب ڈیموکریٹکس کے پاس چلے گئے۔
واشنگٹن (پی ٹی آئی) امریکی صدر ٹرمپ کو بڑا دھکا پہنچا۔امریکی رائے دہندوں نے منگل کے دن اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کو امریکی کانگریس کا کنٹرول دے دیا۔ گورنری کے اہم عہدے اب ڈیموکریٹکس کے پاس چلے گئے۔
اس الیکشن پر سب ہی کی نظریں تھیں۔ نتائج کے مضمرات امریکہ کے باہر بھی ہوں گے۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی ٹکساس‘جارجیا اور لوا جیسے اپنے گڑھ میں ہار گئیں۔ اس نے گورنر کے عہدے گنوا دے۔ دیگر ریاستوں میں بھی ٹرمپ کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرناپڑا۔ اس کی وجہ ٹرمپ کی پالیسیاں بتائی جاتی ہیں۔
ایران جنگ کی وجہ سے امریکہ میں زندگی مہنگی ہوئی اور ڈیزل کے دام بڑھ گئے۔ پولنگ بوتھس پر پی ٹی آئی سے بات چیت میں رائے دہندوں نے بار بار کہاکہ ٹرمپ جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ جارجیا میں ایک ڈیموکریٹ ووٹر نے کہاکہ میں اپنے بچوں کے لیے ٹرمپ کو رول ماڈل نہیں مانتا۔ اس شخص کا جتنا جلد ہو چلاجانا بہتر ہے۔
جارجیا روایتی ریپبلکن ریاست ہے۔ ٹرمپ کے پسندیدہ ہندوستانی امریکی وویک راماسوامی کو اوہایو کی گورنری کی دوڑ میں ڈیموکریٹک ایمی ایکٹن نے ہرایا۔ ریپبلکن قائد کرس کرسٹی نے اے بی سی نیوز سے کہاکہ ٹرمپ کا دور ختم ہوگیا۔ میڈیا انٹرویوز میں ٹرمپ نے ہار مان لی۔ اس علاقہ کو وسط مدتی اس لیے کہاجاتاہے کہ یہ امریکی صدر کی 4 سالہ میعاد کے وسط میں ہوتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہاکہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے سی بی ایس نیوز میں بات چیت میں ڈیموکریٹس کو مبارکباد دی او رکہاکہ میں اپنے ملک کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہوں۔ میں نتائج کو قبول کرتاہوں۔ صدر ٹرمپ نے کہاکہ ان کی پارٹی اس لیے ہاری کے وہ بیالٹ پر نہیں تھے۔
وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹرمپ اپنی من مانی نہیں کرپائیں گے۔ کانگریس کو ان پر روک لگانے کے وسیع اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ ٹرمپ کے پاس اب واحد ہتھیار اگزیکٹیو آرڈر رہے گا جسے وہ اپنی مابقی میعاد میں استعمال کرسکیں گے۔ وہ کانگریس کو ویٹو کرسکیں گے۔