مشرق وسطیٰ

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، تہران کا بھی دوٹوک جواب؛ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

ایرانی حکومت سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اگر امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران امریکہ کے اندر 11 ستمبر 2001 جیسے حملوں کی طرز پر کارروائیاں کر سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ جاری رہی تو امریکہ کو قومی سوگ کے دن دیکھنے پڑ سکتے ہیں، جبکہ امریکی توانائی کے مراکز اور اہم پل بھی ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد ایران نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے جوابی دھمکیاں دی ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی حکومت سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اگر امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران امریکہ کے اندر 11 ستمبر 2001 جیسے حملوں کی طرز پر کارروائیاں کر سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ جاری رہی تو امریکہ کو قومی سوگ کے دن دیکھنے پڑ سکتے ہیں، جبکہ امریکی توانائی کے مراکز اور اہم پل بھی ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔

ایران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے صرف انہی بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دیا جائے گا جو ایرانی ہدایات پر عمل کریں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کرتا ہے، چاہے وہ ڈرون کے ذریعے ہو یا میزائل سے، تو امریکہ ایران کے دارالحکومت کے قریب واقع اہم پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں، اور اگرچہ اس وقت حملے روک بھی دیے جائیں، تب بھی ایران کو جنگ کے نقصانات سے نکلنے اور ملک کی تعمیرِ نو میں بیس برس سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔

دونوں ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے سخت بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔