مشرق وسطیٰ

امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کے جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی جانب گامزن

اس کا مقصد امریکی اٹامک انرجی ایکٹ کے تحت نام نہاد "123 معاہدہ" تک پہنچنا ہے، جو بیرونِ ملک امریکی جوہری ٹیکنالوجی، مواد اور آلات کی منتقلی کو منظم کرتا ہے۔ اس تعاون کی مالیت دسیوں ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

واشنگٹن/ریاض: امریکہ سعودی عرب کے ساتھ ایک ملٹی ارب ڈالر کے سول جوہری تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف بڑھ رہا ہے، جو ناقدین کے مطابق مستقبل میں مملکت کو حساس جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اردو اکیڈمی جدہ کا گیارہواں سہ ماہی پروگرام شاندار انداز میں منعقد، تمثیلی مشاعرہ اور طلبہ کی پذیرائی
249واں جشنِ آزادی امریکہ: دنیا کی قدیم جمہوریت کا سفر اور ہند-امریکہ تعلقات کی مضبوطی
سعودی عرب میں میڈیکل و انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر IIPA کا رہنمائی سیشن
ادبی فورم ریاض کا مشاعرہ بہ یاد تابش مہدی مرحوم
ڈاکٹر سید انور خورشید کو پریواسی بھارتیہ سمان 2025 ایوارڈ ملنےپر تہنیتی جلسہ

اس حوالے سے آرمس کنٹرول ایسوسی ایشن (اے سی اے) نے براہِ راست اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔


گزشتہ سال واشنگٹن اور ریاض کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کے تحت امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے پہلے جوہری توانائی ری ایکٹروں کی تعمیر کے لیے مقابلے کی اجازت دی جائے گی۔

اس کا مقصد امریکی اٹامک انرجی ایکٹ کے تحت نام نہاد "123 معاہدہ” تک پہنچنا ہے، جو بیرونِ ملک امریکی جوہری ٹیکنالوجی، مواد اور آلات کی منتقلی کو منظم کرتا ہے۔ اس تعاون کی مالیت دسیوں ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔


صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نومبر میں اس ابتدائی فریم ورک کی رپورٹ کانگریس کو پیش کی تھی۔


تاہم اے سی اے، جس نے اس دستاویز کا جائزہ لیا، نے خبردار کیا کہ مجوزہ انتظام میں عدم پھیلاؤ (نان پرولیفریشن) کے مضبوط حفاظتی اقدامات شامل نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دی جائے، جس سے جوہری توانائی کو ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کی راہ کھل سکتی ہے۔


اے سی اے کی ڈائریکٹر برائے عدم پھیلاؤ پالیسی، کیلسے ڈیون پورٹ نے کہا کہ رپورٹ سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ آیا انتظامیہ نے پھیلاؤ کے خطرات یا ایسے معاہدے کی نظیر کے وسیع اثرات پر مکمل غور کیا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاہدے کا گہری جانچ پڑتال کرے، کیونکہ بظاہر یہ امریکہ کی دیرینہ پالیسی سے انحراف ہے جس کے تحت شراکت دار ممالک کو یورینیم افزودگی اور ری پروسیسنگ سے دستبردار ہونے اور سخت بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے کی شرط رکھی جاتی رہی ہے۔