ویڈیو وائرل کیس: کرناٹک حکومت ڈی جی پی کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے
مسٹر پرمیشور کا کہنا تھا کہ ان کی سنیارٹی کی پرواہ کیے بغیر، معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے سے محکمۂ پولیس اور پوری انتظامیہ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بنگلورو: کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کے رام چندر راؤ کے وائرل ویڈیو تنازع کے بعد حکومت ان کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ راؤ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، تاہم تفتیش کے بعد اگلے اقدامات کا تعین کیا جائے گا، جس میں برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
مسٹر پرمیشور کا کہنا تھا کہ ان کی سنیارٹی کی پرواہ کیے بغیر، معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے سے محکمۂ پولیس اور پوری انتظامیہ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل راؤ نے ویڈیو کو ’’من گھڑت اور جھوٹا‘‘ قرار دیا ہے، لیکن حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ جب کسی سرکاری ملازم کے غلط رویے کی بات آئے گی تو کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے غیر جانبداری کو یقینی بنانے اور تحقیقات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے راؤ سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے سے گریز کیا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ معطلی تفصیلی تحقیقات مکمل ہونے تک جاری رہے گی، جس کے بعد حکومت اگلا قدم اٹھائے گی۔
مسٹر پرمیشور نے انتظامیہ کی جوابدہی کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ معاملہ اعتماد اور اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی کا ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘‘