ایک انتخابی نتیجہ، کئی ملکوں کی پالیسیوں پر اثر
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے کانگریس میں اکثریت کھونے سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسرائیلی اخبار 'یروشلم پوسٹ' نے بدھ کو شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں یہ امکان ظاہر کیا ہے۔
تل ابیب: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے کانگریس میں اکثریت کھونے سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسرائیلی اخبار ‘یروشلم پوسٹ’ نے بدھ کو شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں یہ امکان ظاہر کیا ہے۔
”امریکہ میں ڈیموکریٹک سونامی: ریپبلکن شکست کے بعد اسرائیل کو درپیش تین بڑے چیلنجز” کے عنوان سے شائع تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اسرائیل، ایران کے ساتھ جنگ اور واشنگٹن و تل ابیب کی اسٹریٹجک شراکت داری سے متعلق مؤقف میں تبدیلی آ رہی ہے۔
اس کے اثرات صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی، امریکی کانگریس میں طاقت کے توازن اور 2028 کے صدارتی انتخابات پر پڑ سکتے ہیں۔اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ فاکس نیوز کے مبصرین نے بھی کہا کہ جنگ نہ ہوتی تو انتخابی نتائج مختلف ہو سکتے تھے، جبکہ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ شکست میں ایران کا بھی کچھ کردار رہا۔ تجزیے کے مطابق ایگزٹ پول میں 62 فیصد ووٹروں نے ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت کی۔
اخبار نے لکھا کہ امریکی عوام مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ کے حق میں نہیں ہیں اور ٹرمپ کے سامنے اب یہ پیغام پالیسی میں ڈھالنے کا چیلنج ہے۔ ان کے پاس دو راستے ہو سکتے ہیں: ایران کے ساتھ سفارت کاری تیز کرتے ہوئے سمجھوتہ کرنا اور اسے اپنی کامیابی قرار دے کر جنگ سے نکلنا، یا مختصر فوجی کارروائی کے بعد مقاصد کے حصول کا اعلان کرکے خطے سے امریکی فوج کی موجودگی کم کرنا۔
تجزیے کے مطابق دونوں صورتوں میں اسرائیل کے مفادات وائٹ ہاؤس کی ترجیحات سے مختلف ہو سکتے ہیں، جو دونوں اتحادیوں کے درمیان کشیدگی کی اہم وجہ بن سکتا ہے۔ریپبلکن اکثریت کے خاتمے سے کانگریس میں طاقت کا نیا توازن بھی اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد کم کرنے، اس پر سیاسی شرائط عائد کرنے اور دونوں ملکوں کے خصوصی تعلقات پر نظرثانی کے مطالبات کو حمایت مل رہی ہے۔اخبار نے نیویارک کے میئر زہران ممدانی اور مشی گن سے سینیٹر منتخب ہونے والے عبدالسلام السید کی کامیابیوں کو اس تبدیلی کی مثال قرار دیا، جو غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور امریکی سیاست میں اسرائیلی اثرورسوخ کے ناقد رہے ہیں۔