حیدرآباد

پی ایم کسان کے تحت رقم کی تقسیم کی اجازت کیوں دی گئی؟الیکشن کمیشن سے کے ٹی آر کا سوال

کے ٹی آر نے اس مسئلہ کو اٹھایا اور الیکشن کمیشن نے آخر پی ایم کسان اسکیم کے تحت رقم کی تقسیم کی اجازت کیوں دی؟۔ جبکہ تلنگانہ میں رعیتو بندھو کے تحت فنڈ کی تقسیم پر امتناع عائد کردیا گیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں رعیتو بندھو اسکیم کے تحت کسانوں میں رقم کی تقسیم پر روک لگانے کو غلطی سے تعبیر کرتے ہوئے بی آر ایس کے کارگذار صدر کے تارک راما راؤ نے آج الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ پی ایم (پرائم منسٹر) کسان اسکیم کے تحت، رقم کی تقسیم پر کیوں روک نہیں لگائی گئی؟

متعلقہ خبریں
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
41 برسوں کے بعد کسی وزیراعظم کا دورہ عادل آباد
تلنگانہ میں ٹی ایس کے بجائے ٹی جی استعمال کی ہدایت، احکام جاری
کمیشن نے چامراج نگر سیٹ پر دیا دوبارہ پولنگ کا حکم
تلنگانہ میں آئندہ 24 گھنٹے میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان

میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران کے ٹی آر نے اس مسئلہ کو اٹھایا اور الیکشن کمیشن نے آخر پی ایم کسان اسکیم کے تحت رقم کی تقسیم کی اجازت کیوں دی؟۔ جبکہ تلنگانہ  میں رعیتو بندھو کے تحت فنڈ کی تقسیم پر امتناع عائد کردیا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی بی آر ایس،2018 کے انتخابات کے مقابلہ میں کم از کم ایک نشست زائد حاصل کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ریالیوں سے پڑنے والے اثرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے سامنے تلنگانہ اسمبلی الیکشن سے زیادہ پارلیمانی انتخابات کو اہمیت حاصل ہے۔

تلنگانہ کے وزیر نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے پی ایم کسان اسکیم کے تحت رقم کی تقسیم پر ورک کیو ں نہیں لگائی؟ جبکہ کمیشن نے تلنگانہ میں رعیتو بندھو کے تحت کسانوں میں رقمی تقسیم پر روک لگادی ہے۔ پی ایم کسان، کو کس طرح اجازت دی گئی ہے؟ اس مسئلہ پر کانگریس نے اتحاج کیوں درج نہیں کرایا؟۔

ا س کا مطلب صاف ہے کہ کانگریس اور بی جے پی میں ناپاک گٹھ جوڑ ہے۔ وزیر کے ٹی آر نے یہ الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ایم کسان اسکیم کو نہیں روکا؟ مگر تلنگانہ کی اختراعی رعیتو بندھو کے کسانوں کے کھاتوں میں رقم کی منتقلی کو کیوں روکدیا؟۔

 بتایا جاتا ہے کہ کانگریس نے 25 نومبر کو الیکشن کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے بی آر ایس حکومت کو رعیتو بندھو کے تحت کسانوں میں امدادی رقم کی تقسیم کی اجازت نہ دینے کی خواہش کی تھی بی آر ایس حکومت کو اس وقت دھکہ پہونچا ۔

جبکہ27 نومبر کو الیکشن کمیشن نے رقم کی  تقسیم کی  دی گئی اجازت کو واپس لے لیا۔ بی آ رایس قائد کے ٹی آر نے سوال کیا کہ اس اسکیم کو کیوں روکا گیا؟۔ پوری اسکیم (70 لاکھ کسانوں) پر عمل آوری سے کیوں روکدیا گیا؟۔