قیافہ شناسی

مظہر قادری

مردم شماری میں انسانوں کے سرگنے جاتے ہیں اورمردم شناسی اورقیافہ شناسی میں انسان کے دل میں کیاچل رہاہے یعنی انسان کی سوچ گنی جاتی ہے۔قیافہ شناسی ایک بہت بڑا ہنر ہے۔ہرکوئی قیافہ شناس نہیں ہوسکتا۔ قیافہ شناسوں کا ایک مخصوص گروہ رہتاہے جو اس فن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا الوسیدھاکرتے رہتے ہیں تواب جب ہم نے اس کی لسٹ تیارکی کہ تواس لسٹ میں سرفہرست بھکاری یعنی فقیر آئے۔بھکاری کے جتنے مردم شناس کوئی دوسرے نہیں ہوتے۔قیافہ شناسی ماہر نفسیات کی انتہاہوتی‘یعنی انسان کی نفسیات سے کھیلنا۔آپ نے دیکھاہوگاکہ فقیرجب آپ کی گاڑی کسی سگنل پررکتی ہے توایک سکنڈ میں تاڑلیتے ہیں کہ کون خیرات دے گا اورکون نہیں۔وہ اپنا وقت بالکل خراب نہیں کرتا۔گاڑی پر اگرآپ اکیلے مردہیں توآپ کے نزدیک بھی نہیں آتے۔انہیں معلوم رہتاکہ شادی شدہ مردہے اورہم سے پہلے اس کے پاس جو کچھ بھی تھا گھر سے نکلتے وقت اس کی بیوی نکال چکی ہے۔اب یہ مزید کچھ نہیں نکال سکتا۔ان کا نشانہ خاص طورپر عورتیں ہوتی ہیں،کیوں کہ عورتوں کو مردوں پر رحم نہیں آتا۔اوراس گناہ کو دھونے کے لیے مردسے زبردستی وصول کی ہوئی رقم کا ایک حصہ ثواب کے طورپر فقیر کو دیتے رہتے ہیں تاکہ اپنے گناہ کا بوجھ ہلکا کرسکے۔فقیر جب کسی لڑکا لڑکی کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں توان کے پیچھے پڑجاتے کیوں کہ ا ن کو معلوم رہتاکہ وہ عاشقی میں دل کھول کردان دینے والے ہیں۔جن عورتوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے، ان کے بھی پیچھے پڑجاتے اس لیے کہ بچوں کی اماں بچوں کی سلامتی کے لیے ضرورکچھ نہ کچھ دیتی۔ایک میاں بیوی کارمیں جھگڑا کررہے تھے‘کا رسگنل پر رُکی فقیر نے خیرات مانگی توشوہر اسے دس روپئے دینے کے لیے نکال کر آئینہ اتاررہاتھاکہ فقیر بولا بھگوان آپ دونوں کی جوڑی سات جنم تک سلامت رکھے۔یہ سنتے ہی شوہر غصے سے دس روپئے واپس اپنے جیب میں رکھ رہاتھا کہ فقیر سمجھ گیا۔ فوری بولابھگوان کرے یہ آپ کا ساتواں جنم ہو‘توشوہر یہ سن کر اس کو فوری سوروپئے کا نوٹ نکال کر دے دیا۔۔۔ فقیر اتنے قیافہ شناس ہوتے ہیں کہ وہ کسی عورت سے بھیگ مانگتے وقت اگروہ اسی سال کی بوڑھی عورت بھی ہو تو اماں خیرات دیونہیں بولتے بلکہ بیٹا خیرات دیویابی بی خیرات دیوبولتے۔اگرفقیر کسی عورت کو اماں یاآنٹی بولے توکبھی وہ خیرات نہیں دیتی۔ فقیروں کو انسان توانسان کتوں کی نفسیات بھی معلوم رہتی۔کتافقیر کو دیکھ کر بھونکتا۔جب عام انسان کے پیچھے کتا پڑجاتاتوبھاگنا شروع کردیتااورکتا اسے کاٹ لیتا،لیکن فقیر کو کتے کی نفسیات بھی معلو م رہتی۔وہ کتا چاہے کتنا بھی اسے دیکھ کر بھونکے وہ اس جگہ سے ہلتا نہیں تاوقتیکہ وہ کتاخودبیزارہو کر وہاں سے چلاجائے۔۔۔ فقیروں کے بعد دوسرے نمبر پر آتے ہیں لیڈریہ بھی بہت قیافہ شناس ہوتے ہیں۔جب تقریرکرتے تومجمع کی نبض دیکھتے رہتے ہیں۔عام آدمی کو مجمع کی صرف تالیاں سنائی دیتیں‘لیکن لیڈر کا دھیان تالیوں کی تعداد پر رہتاکہ کون سی بات پر زیادہ تالیاں بجیں اوروہی بات وہی جھوٹی قسمیں باربار دہراتے رہتا۔اسے پتہ ہے کہ سچ بولنے سے کوئی نہیں آتا بلکہ جھوٹے اورسنہر ے خواب دکھلانے پر مجمع جمع ہوتا اوراس کو ووٹ دے کر کامیاب کرتا۔وہ اس کا پابند رہتاکہ قسمیں وعدے پیاروفا سب وعدے ہیں وعدوں کاکیا۔لوگ کڑوی حقیقت کی بہ نسبت میٹھے جھوٹ کو پسند کرتے ہیں جس کا لیڈ رپورا پورا فائدہ اٹھاتے۔۔۔
تیسرے نمبر پر ڈاکٹر آتے ہیں۔ یہ بھی بہت قیافہ شناس ہوتے ہیں۔انہیں معلوم ہوتا کہ 90 فیصد مریض جسمانی سے زیادہ ذہنی مریض ہوتے ہیں۔بیماری کچھ بھی نہیں ہوتی‘صرف کیسا کیسا کی ہوراکا وہم رہتا۔توبس اس وہم کا جھوٹ موٹ علاج کرکے اپنا الوسیدھاکرتے رہتا۔۔۔
اس کے بعد نمبر آتا سڑک چھاپ عاشقوں کا۔یہ بھی بہت قیافہ شناس ہوتے ہیں۔جولڑکیاں اپنے آپ میں مگن رہتیں، وہ چاہے کتنی بھی خوبصور ت کیوں نہ ہو یہ ان پر توجہ نہیں دیتے۔ان کا قیافہ رہتاکہ یہ پٹنے والی نہیں بہ نسبت اس کے جولڑکی زیادہ اِدھر اُدھر دیکھتی چمچماتی ہوئی گاڑیوں کو شوق سے دیکھتی اورہرآنے جانے والوں کو دیکھتی‘ایسی لڑکیاں ان کا ٹارگیٹ رہتیں۔ ان کا قیافہ انہیں بتادیتا کہ جو لڑکی دنیا کی ہرچیز شوق سے دیکھتی وہ ہرنئی چیز یعنی ان کی دوستی بھی آسانی سے قبول کرسکتی۔۔۔
اس کے بعد نمبر آتا ہے کپڑوں کے دوکانداروں کا۔ یہ بھی بڑے قیافہ شناس ہوتے ہیں۔ان کے پاس مردکی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اورمردکو خریدی کے لیے رجحانے کی کوشش نہیں کرتے،کیوں کہ انہیں پتہ ہوتا کہ مردسوائے گھرکے سوداسلوف کے اورکوئی دوسری چیز نہیں خریدتا۔Decison Maker صرف عورت ہوتی۔چاہے گاڑی خریدنا ہو،فرنیچرخریدنا ہو،کپڑے خریدنا ہو،زیورخریدنا ہویابچوں کے کھلونے تک بھی صرف عورت خرید سکتی‘کیوں کہ اسے پیسے کا دردنہیں رہتا جووہ کماتی نہیں۔مالِ مفت دلِ بے رحم کا حساب رہتا۔صرف عورت کو بیوقوف بناکر دوکاندارمن مانی دام پر ہرچیز فروخت کرسکتے۔مرداورعورت مل کر جب دوکان پر آتے تودوکاندارصرف عورت پر توجہ دیتا‘مردکو مکمل نظرانداز کرتا کیوں کہ مردکے فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔دوکاندارکو حتمی یقین رہتا جو شوہر اپنی بیوی کے ساتھ دوکان کے اندرآتا وہ پھر بھی کچھ خرید نے میں روکا وٹ بن سکتا لیکن جوشوہر بُری صورت بناکر دوکان کے باہر ہی کھڑا رہتا اس کی بیوی دوکان سے ضرورکچھ نہ کچھ خریدتی۔۔۔۔۔
آخر میں بیچارے شاعرآتے یہ بھی قیافہ شناس ہوتے ہیں،لیکن معاشی مفادکے لیے نہیں بلکہ صرف شہر ت کے بھوکے ہوتے ہیں اورمشاعرے میں ان کے جس شعرپر دادملتی وہ صبح تک مکررارشاد کرتے رہتے اورہرجگہ پڑھتے رہتے اورزیادہ توجہ اس طرف دیتے جس طرف سے زیادہ دادمل رہی ہے اورجس شعرپر دادنہیں مل رہی ہے اسے دوبارہ پڑھنے کی غلطی نہیں کرتے۔۔