مضامین

ہندوستانی مسلمانوں پر مظالم ‘ساری دنیا میں تشویش

میرا یہ ماننا ہے کہ غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں ہے ، ’’سوچ ‘‘ کا مفلوج ہوجانا سب سے بڑی غلامی ہے۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ موت غلامی کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ آزاد پیدا ہونے والے انسان کو غلام بنانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غلامی انسان سے اس کی عقل، ہمت اور خودداری چھین لیتی ہے۔

ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786

l ملک کے نوجوان نفرت کی سیاست کو ختم کرنے کے لئے کمر بستہ ۔

l ہر طرف ’’ہندو۔ مسلم راضی تو کیا کرے گا نازی ‘‘کے نعرے۔

l ہندو۔مسلمان ، شمشان۔ قبرستان، ہندوستان۔ پاکستان کی باتیں کب تک ؟۔

l کیا ان نفرتی مہمات سے بھارت کا مستقبل روشن ہوگا اگر نہیں تو اپنی دکانیں بند کرو۔

l کانوڑی یاترا کیلئے قومی شاہراہوں کا رخ بدلنے کا اعلان ۔10منٹ کی نماز سڑک پر گوارا نہیں۔

میرا یہ ماننا ہے کہ غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں ہے ، ’’سوچ ‘‘ کا مفلوج ہوجانا سب سے بڑی غلامی ہے۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ موت غلامی کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ آزاد پیدا ہونے والے انسان کو غلام بنانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غلامی انسان سے اس کی عقل، ہمت اور خودداری چھین لیتی ہے۔

یقینا آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ہے اور جو قوم غلامی کو قبول کرلیتی ہے وہ جینے کا حق بھی کھو دیتی ہے۔ ایسی ہی صورتحال آج وطن عزیز میں پیدا ہوئی ہے جس کے خلاف اب سارا ہندوستان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ نیا ہندوستان نہ صرف غلامی کو شکست فاش دینا چاہتا ہے بلکہ اقلیتوں اور خاص طورپر مسلمانوں کے ساتھ کی جارہی مذموم نفرت کے خلاف بھی اعلان جنگ کرچکا ہے۔ اس وقت ساری دنیا کی نظریں ہندوستان پر لگی ہوئی ہیں۔

ساری دنیا مسلمانوں پر کئے جارہے مظالم کے خلاف دعائیں کررہی ہیں۔ انہیں مسجدوں کے انہدام اور گرجاؤں کی بے حرمتی پر بھی گہری تشویش ہے۔ اس دوران اترپردیش کے انتہائی نکمے اور اخلاق سے گرے ہوئے چیف منسٹر یوگی نے کانواڑی یاترا کے لئے پانچ دن تک قومی شاہراہوں کا رخ بدلنے کااعلان کیا جبکہ اس نکمے چیف منسٹر کو سڑک پر 10 منٹ کی نماز رکاوٹ لگتی ہے۔ واہ رے ہندوستان اس طرح کے چھچھورے لوگوں کو کس طرح سے برداشت کیا جارہا ہے۔

ان ساری چیزوں کے باوجود اس ابھرتے ہوئے ہندوستان کو دیکھ کر سنگھ پریوار اور اس کی ترجمان بھارتیہ جنتا پارٹی کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ملک عزیز کے نوجوانوں کی تحریک کے آگے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام نہاد سورما گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے اور انہوں نے نوجوانوں کے اس مطالبہ کو قبول کرلیا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔ بہرحال اس کا یہ استعفیٰ پچھلے 12سال کی حکومت میں کسی وزیر کا پہلا استعفیٰـ ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے شکست کا آغاز بھی سمجھا جائے گا۔

دھرمیندرپردھان کا استعفیٰ مانگنے والے نوجوان آج دل و جان سے یہ نعرہ لگا رہے ہیں ’’نفرت کی سیاست کو ختم کیا جائے ورنہ وہ اس کے خلاف کسی بھی طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں‘‘۔ ملک کے عوام کو بانٹنے والے غداروں کو احساس ہوجانا چاہئے کہ جب ہندوستان نے مہاتما گاندھی کی قیادت میں جلاد اور قاتل انگریزوں کو نکال پھینکا تھا تو ہندوستان کے یہ فرقہ پرست عناصر کس کھیت کی مولی ہیں۔ اس سچائی سے کون انکار کرسکتا ہے کہ جمہوریت کو دنیا کا بہترین نظامِ حکومت کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔

عوام اپنے نمائندے خود منتخب کرتے ہیں اور حکومت صرف ان کی خدمت کے لئے قائم ہوتی ہے لیکن آج بہت سے لوگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ جمہوریت میں بھی عوام کی اہمیت صرف انتخابات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور انہیں محض ووٹ دینے والی مشین سمجھا جانے لگا ہے ،نہ کہ فیصلوں میں حقیقی شریک۔ انتخابات کے دوران سیاسی جماعتیں عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں۔ روزگار، تعلیم، صحت، انصاف اور ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اکثر وعدے پسِ پشت ڈال دئیے جاتے ہیں کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی معاشی نظریہ نہیں ہے جس کے باعث وہ شمشان۔ قبرستان ، مندر۔ مسجد، ہندو ۔مسلم اورہندوستان ۔ پاکستان جیسے گھٹیا موضوعات پر بحث پھیلا کر عوام کی توجہ کو ہٹا رہی ہے۔

ایسا ایک بار ممکن ہے بارہا ایسی حرکتیں نہیں چل پاتیں اور آج بلاتکلف یہ کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ سنگھ پریوار بھی گھٹنے ٹیکنے لگا ہے اور آ رایس ایس کے نام نہاد رضاکار بھی اسے چھوڑ کر اپنے کاروبار میں لگ گئے ہیں۔ انہیں احساس ہوگیا ہے کہ عوام کی طاقت ان کے زہریلے نظریہ کو اپنے پیار اور آپسی محبت کے ذریعہ نیست و نابود کردیں گے۔ ایک نعرہ بھی آج زوروں پر چل رہا ہے کہ جب ’’ہندو مسلم راضی تو کیا کرے گا نازی‘‘ ۔

جب ہم یعنی ہ سے ہندو اور م سے مسلمان ایک جٹ ہوگئے ہیں تو کوئی ہمارا اتحاد کیا بگاڑ پائے گا۔ یہاں اس بات کاتذکرہ بیجانہ ہوگا کہ عوام کی شکایات، مسائل اور ضروریات پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی توقع کی جاتی ہے تویہی صورتحال عوام میں مایوسی اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات کا چند ہاتھوں میں سمٹ جانا بھی اس احساس کو مضبوط کرتا ہے کہ عوام کی رائے کی حقیقی قدر نہیں رہی۔ جب قانون سب کے لیے برابر نافذ نہ ہو اور طاقتور افراد احتساب سے بچ جائیں تو عام شہری خود کو کمزور اور بے اختیار محسوس کرنے لگتا ہے اور وہیں سے انقلاب جنم لیتا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت چاہے اسے راؤن کہہ لیں، فرعون کہہ لیں یا ہٹلر ‘روک نہیں سکتی۔

یہی کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی اصل روح عوام کی آزادی، برابری اور عزت میں ہے، نہ کہ ان کی بے بسی میں۔ اگر حکمران دیانت داری سے عوام کی خدمت کریں اور شہری بھی اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، تو جمہوریت ایک ایسا نظام بن سکتا ہے جس میں ہر فرد خود کو بااختیار اور باعزت محسوس کرسکے، نہ کہ غلام۔ سچائی تو یہ ہے کہ جمہوریت میں حکمران دراصل عوام کے غلام ہوتے ہیں لیکن شومیٔ قسمت سے یہ بیہودے لوگ اپنے آپ کو عوام کا آقا سمجھنے لگے ہیں جس کی وجہ سے ملک تباہی کی سمت جارہا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ’’ رات جتنی بھی سنگین ہوگی صبح اتنی ہی رنگین ہوگی‘‘۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰