قومیمضامین

ہندو ازم کو اندھ بھکتوں سے زبردست خطرہ

تاریخ گواہ رہے گی کہ ہندو مت کو بابر، اکبر یا اورنگ زیب سے کوئی خطرہ نہیں پہنچا بلکہ آج اندھ بھکت اپنی گھناؤنی حرکتوں سے عظیم الشان ہندو توا کو تباہی کے غار میں ڈھکیل رہے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے جذبہ ہندی کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786

l نریندر مودی نے کہا ہندوستان کے تمام دیوی دیوتاؤں کو سمندر میں ڈال دو

l روا داری، انصاف ، سچائی اور اخلاقی اقدار ہی ہندو ازم کی اصل روح

l اندھی عقیدت سے نفرت کا جنم l اختلاف رائے کا احترام ‘دھرم کی بنیاد ۔

تاریخ گواہ رہے گی کہ ہندو مت کو بابر، اکبر یا اورنگ زیب سے کوئی خطرہ نہیں پہنچا بلکہ آج اندھ بھکت اپنی گھناؤنی حرکتوں سے عظیم الشان ہندو توا کو تباہی کے غار میں ڈھکیل رہے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے جذبہ ہندی کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ لوگ مودی ، امیت شاہ اور یوگی جیسے لوگوں کی باتوں پر چل کر ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہیں، ایک مقام پر مودی نے تقریر کرتے ہوئے یہ کہا تھا ’’ہندوستان کے تمام دیوی دیوتاؤں کو سمندر میں ڈال دو اور صرف بھارت ماتا کی پوجا کرو‘‘۔ اگر آپ دیوی دیوتاؤں کو ہی ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو پھر ہندوستان میں ہندو دھرم کیسے برقرار رہے گا۔

یعنی اس طرح کے لوگوں کی وجہ سے ہندو ازم پر نازیبا حملہ ہورہا ہے جسے کوئی بھی شائستہ سماج قبول نہیں کرے گا۔ ہندوستان کے سارے ہندوؤں کو رام مندر تحریک کے ذریعہ یکجا کرنے کی کوششیں کی گئیں جس کا کوئی فائدہ اُس وقت بی جے پی کو نہیں ہوا تھا جبکہ آج اندھ بھکت جو حرکتیں کررہے ہیں اس سے نہ صرف بھارتیہ جنتاپارٹی کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ہندوازم کی عظمت پر بھی آنچ آرہی ہے۔ اگر اندھ بھکتوں کو قابو میں نہیں کیا گیا تو اس بات کا خدشہ ہے کہ ملک میں افراتفری پھیل جائے گی جسے کسی بھی حالت میں بجا نہیں کہا جاسکتا۔ مودی اور ان کے حواریوں کو چاہئے کہ وہ نیشنل انٹی گریشن کونسل کی میٹنگ بلائیں اور دیکھیں کہ ملک میں بھائی چارہ کو عام کرنے کے لئے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔

انٹلیجنس کو مضبوط کیا جانا اشد ضروری ہے تاکہ ملک میں پھیل رہی سوچ کو صحیح راستہ پر لے جایا جاسکے۔ ہر مذہب کی بنیاد سچائی، اخلاق، انصاف اور انسانیت پر ہوتی ہے۔ ہندومت بھی ایک قدیم اور عظیم مذہب ہے، جس کی تعلیمات برداشت، سچائی، عدم تشدد اور تمام مخلوقات کے احترام پر زور دیتی ہیں۔ جب کسی فرد، تنظیم یا رہنما کی اندھی تقلید (اندھ بھکتی) شروع ہو جاتی ہے، تو سوال کرنے، تنقید کرنے اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں مذہب کی اصل تعلیمات پسِ پشت چلی جاتی ہیں اور شخصیات یا گروہوں کو غیر معمولی اہمیت ملنے لگتی ہے۔ ہندومت کی اصل روح مختلف آراء کو قبول کرنے، علم حاصل کرنے اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

اسی لیے اگر مذہب کے نام پر نفرت، تشدد یا دوسروں کے خلاف تعصب کو فروغ دیا جائے، تو اس سے نہ صرف معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ہندومت کی شبیہ بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ بات بھی ضروری ہے کہ کسی بھی مذہب کے تمام ماننے والوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے۔ ہندوؤں کی اکثریت امن پسند ہے اور اپنے مذہب کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مسئلہ مذہب نہیں، بلکہ اندھی عقیدت، انتہا پسندی اور عدم برداشت ہے، جو کسی بھی مذہب یا نظریے میں پیدا ہو سکتی ہے۔

نریندر مودی جیسے ان پڑھ شخص کو کس نے اجازت دی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ ہندوستان کے دیوی دیوتاؤں کو سمندر میں پھینک دیا جائے؟ ان کا یہ کہنا کیا ہندو ازم کی توہین کے معنوں میں نہیں آتا؟ وہ بار بار بھارت ماتا کی رٹ لگائے رہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے۔ کیا اب وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بھارت ماتا ہی سب کچھ ہے۔ کیا وہ بھارت ماتا کے معنی جانتے ہیں، کیا وہ اس فلسفہ کو سمجھتے ہیں کہ بھارت بنتا کیسے ہے؟بھارت آگے بڑھتا کیسے ہے؟ بھارت میں امن و چین کیسے آسکتا ہے، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ فساد کروانا ملک کے اتحاد کو داؤ پر لگانا ہی دیش بھکتی ہے ؟تو اس دیش بھکتی کا خدا ہی حافظ ۔

ہندوازم کا فلسفہ یہ ہے کہ ساری دنیا ایک خاندان ہے تو وہ اپنے ہی وطن میں اپنے ہی پریواروں کو کس طرح کچل سکتے ہیں؟ ملک کے دانشوروں کو صحیح ڈھنگ سے سونچنے والوں کو دھڑکتا بلکتا ہندوستان پسند ہے یا پھر امن پسند خوشحال وطن۔ ان کی خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہندوستان کی عظمت کو بھول گئے ہیں اور خاموشی کی چادر اوڑھے سورہے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک اور ہندوتوا کو بچانے کے لئے ہر گلی اور نکڑ پر امن کا پیغام پہنچایا جائے تاکہ ہمارے ملک کے ہم وطن آرام کی نیند سوسکیں ، چین کی کمائی کرسکیں اور اپنے بچوں کے لئے ایک جیتا جاگتا ہندوستان دے سکیں تاکہ وہ اپنے بگڑے قائدین کی ذلیل حرکتوں سے بچ سکیں اور وطن کا نام روشن کرسکیں۔ سنگھ پریوار کے ایک قائد نے کسی شہر میں ایک لڑکی کی عصمت ریزی پر ہورہے ہیں ہنگامے کی روشنی میں یہ کہا کہ یہ ہنگامہ اس لئے ہورہا ہے کہ متاثرہ لڑکی مسلمان تھی جبکہ اس نکمے لیڈر کو یاد کرنا چاہئے کہ دلی کے بربھئے کیس میں کمسن ہندو ڈاکٹر کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوا تو سارے ملک میں زبردست احتجاج ہوا اور وطن عزیز نے پارلیمنٹ میں ایک ایسا قانون متعارف کروایا جس کے ذریعہ اس طرح کے واقعات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ بہرحال وقت آگیا ہے کہ اس طرح کے گندے لوگوں کے خلاف زبردست مہم چلائی جائے تاکہ ملک کو اس طرح کے عناصر سے پاک و صاف کرکے ایک نیا ہندوستان بنایا جاسکے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

وطن بھی عزیز ہے مذہب بھی محترم
دونوں سے ہے قائم مرا وقار و کرم