مضامین

SIR کا مسئلہ‘ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا‘مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی پر تشویش

ہندوستان کے حالات پر جب ہماری نظر پڑتی ہے تو موسی علیہ السلام کے سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا کہا کتنا عظیم سچ ہے۔آج وہ ساری باتیں ہمیں اپنے سماج میں دکھائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے ہم مصیبتوں ، تکلیفوں ، ظلم اور بربریت کے واقعات سے دوچار ہیں کیونکہ ہمارے اللہ ہم سے ناراض ہیں۔

ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786

lیو این او کی جانب سے ہندوستانی جواب کی طلبی

lاقلیتوں کے نام کے اخراج پر تشویش کا اظہار

l ظلم کی عمر چھوٹی۔ آسمانی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی

l ایس آئی آر پر بین الاقوامی نظریں

2023یں اوباما نے کہا تھا کہ ہندوستان ٹوٹے گا l ملک کی یکجہتی کے لئے عوام متحد

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰـ سے سوال کیا ،اے اللہ! بندوں سے تیرے ناراض ہونے کی کیا نشانی ہے؟ ہمیں کیسے پتہ چلے کہ تو ہم سے ناراض ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم یہ دیکھو کہ بارشیں بغیر موسم کے ہورہی ہیں ، حکومت بیوقوفوں کے پاس ہے، مال بخیلوں کے پاس ہے تو سمجھ لینا کہ میں ناراض ہوں۔

ہندوستان کے حالات پر جب ہماری نظر پڑتی ہے تو موسی علیہ السلام کے سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا کہا کتنا عظیم سچ ہے۔آج وہ ساری باتیں ہمیں اپنے سماج میں دکھائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے ہم مصیبتوں ، تکلیفوں ، ظلم اور بربریت کے واقعات سے دوچار ہیں کیونکہ ہمارے اللہ ہم سے ناراض ہیں۔ اسی پس منظر میں ایک اور بات بھی واضح طورپر ہمارے ذہنوں میں آجاتی ہے کہ جب ظلم بڑھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ظالم کو اپنی دبوچ میں لے لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد امن و سکون کا ایک دور دورہ شروع ہوجاتا ہے اسی لئے ہمیں صبر، فکر، شکر اور ذکر کی ہدایتیں دی گئیں ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں پرکئے جارہے ہیں مظالم پر بے انتہا افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں چل رہے SIR کے کام پر ساری دنیا کو تشویش ہونے لگی ہے کیونکہ اس میں اقلیتوں کے ساتھ غلط سلوک کیا جارہا ہے اور ان کے نام کسی نہ کسی بہانے سے خارج کئے جارہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے تین خصوصی ماہرین نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ ہند سے اس ضمن میں وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کا عمل مسلم، بنگالی النسل اور دیگر اقلیتی برادریوں کو غیر متناسب طورپر متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین نے انتخابی عمل کی شفافیت، مناسب وقت کی فراہمی اور موثر اپیل کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی آئین اور قانون کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد صرف انتخابی ریکارڈ کو درست اور تازہ رکھنا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اہل ووٹروں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا رہا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے تمام شکایات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ اگر نام کے املہ میں غلطی بھی ہو تو کسی کی شہریت منسوخ نہیں کی جاسکتی اور الیکشن کمیشن جیسے ادارہ کو کسی کی شہریت ختم کرنے کا کوئی حق نہیں۔

اس دوران این ڈی اے کی سرکار ڈکیتی کرتے ہوئے ارکان پارلیمان کو خرید رہی ہیں تاکہ اسے دوتہائی اکثریت حاصل ہوجائے اور وہ یونیفارم سیول کوڈ اور Delimitation جیسے سفاک قوانین کو لاگو کرسکے جو کسی بھی حالت میں ہندوستان کے حق میں نہیں ہوں گے کیونکہ اس میں حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور وہ اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ بہرحال بگڑتے ہوئے حالات کو بچانے کے لئے ہندوستان کے عوام کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ کر اس طرح کے عظائم کو شکست فاش دینا ہوگا اور یہ کہنا ہوگا کہ ہر ظلم و دغا کی ٹکر میں ہڑتال ہمارا نعرہ ہے۔

دنیا کا ہر دانشوار ہندوستان کے حالات کو بہت ہی باریک نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ جون 2023 میں امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں پر ظلم کے واقعات کو روکا نہیں جائے گا تو انہیں ڈر ہے کہ ہندوستان تقسیم کی ڈگر پر پہنچ جائے گا۔ ہم بارک اوباما کی اس بات سے متفق نہیں ہے کیونکہ ہندوستانی چاہے وہ ہندو ہوکہ مسلم ، سکھ ہوکہ عیسائی ہمیشہ مل جل کر رہے ہیں اور آنے والے خطرات کو بھی اپنے اٹوٹ اتحاد کے ذریعہ ظالموں کوشرمناک شکست دیں گے کیونکہ ہمارا احساس ہے کہ

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا