دہلی

انکت شرما قتل کیس: سابق عاپ لیڈر طاہر حسین  کو عمر قید

اس کیس میں طاہر حسین کے علاوہ ناظم، قاسم، جاوید اور انس کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے ان تمام افراد کو قتل، مجرمانہ سازش اور دیگر سنگین دفعات کے تحت قصوروار قرار دیا تھا۔

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (IB) افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے قتل کے اس واقعے کو انتہائی سنگین اور سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جرم نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

اس کیس میں طاہر حسین کے علاوہ ناظم، قاسم، جاوید اور انس کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے ان تمام افراد کو قتل، مجرمانہ سازش اور دیگر سنگین دفعات کے تحت قصوروار قرار دیا تھا۔

سزا سناتے ہوئے عدالت نے واقعے کی سنگینی پر سخت تبصرہ کیا۔ جج نے کہا کہ انکت شرما پر جس انداز میں حملہ کیا گیا، وہ انتہائی سفاکانہ اور بے رحمانہ تھا۔ عدالت کے مطابق انکت شرما کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو گھسیٹ کر چاند باغ کے نالے میں پھینک دیا گیا۔ عدالت نے جرم کے طریقۂ واردات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

انکت شرما فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران گھر سے ضروری سامان لینے کے لیے باہر نکلے تھے، لیکن واپس نہیں پہنچے۔ بعد میں کئی دن کی تلاش کے بعد ان کی لاش چاند باغ کے نالے سے برآمد ہوئی۔ تفتیش کے دوران ان کے جسم پر متعدد چوٹوں کے نشانات بھی پائے گئے تھے۔

اس قتل کیس کی تحقیقات کے دوران دہلی پولیس نے عدالت کے سامنے 91 گواہوں کی فہرست پیش کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق بعض گواہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے طاہر حسین اور دیگر افراد کو انکت شرما کی لاش نالے کی جانب لے جاتے اور وہاں پھینکتے ہوئے دیکھا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران ٹرائل کورٹ کے جج نے پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور جائے وقوعہ سے متعلق تحقیقات کا بھی جائزہ لیا تھا۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر پانچوں افراد کو قصوروار قرار دیا گیا۔

سزا کے مرحلے میں دہلی پولیس نے عدالت سے طاہر حسین سمیت دیگر مجرموں کے لیے سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی۔

پولیس نے جرم کی سنگینی، حملے کے طریقۂ کار اور واقعے کے حالات کو سزائے موت کے حق میں بنیاد بنایا، تاہم عدالت نے تمام پانچ مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی۔

یہ معاملہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ہے۔ ان فسادات کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا اور متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انکت شرما کے قتل کا کیس بھی اسی دوران پیش آنے والے سنگین واقعات میں شامل تھا۔

طویل قانونی کارروائی، شواہد کی جانچ اور گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت نے طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو مجرم قرار دیا اور اب ان کے لیے عمر قید کی سزا کا اعلان کیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں جرم کے طریقۂ واردات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کا بے رحمانہ تشدد معاشرے کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ انکت شرما قتل کیس میں طاہر حسین، ناظم، قاسم، جاوید اور انس کی سزا سے متعلق ہے۔ عدالت نے پانچوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ دہلی پولیس نے سزا کے مرحلے میں ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔