حیدرآباد

دارالعلوم محبوبیہ کا 32 سالہ جشن یوم تاسیس

اس موقع پر حافظ محمد عبدالقدیر نظامی نقشبندی، صدر مجلس انتظامی نے مدرسے کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دارالعلوم محبوبیہ کا قیام 1993 میں ہوا۔

حیدرآباد: دارالعلوم محبوبیہ، جو جامعہ نظامیہ کے قریب واقع ہے، نے اپنے 32 سالہ یوم تاسیس کا شاندار اہتمام کیا۔ اس موقع پر حافظ محمد عبدالقدیر نظامی نقشبندی، صدر مجلس انتظامی نے مدرسے کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دارالعلوم محبوبیہ کا قیام 1993 میں ہوا۔ یہ مدرسہ اللہ کے نام سے بڑے نامساعد حالات میں شروع کیا گیا، لیکن اس کے چلانے والوں اور تعاون کرنے والوں کے دلوں میں خلوص ایمان موجود تھا۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

حافظ عبدالقدیر نے کہا کہ الحمد للہ، یہ پودا اب ایک سبز درخت بن چکا ہے۔ ابتدا میں یہ مدرسہ ناظرہ و تجوید کے شعبوں سے گزرتا ہوا حفظ، دینیات، اور عربی تک پہنچا ہے۔ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر، دارالعلوم محبوبیہ نے میر عالم تالاب نئی روڈ حسن نگر میں مستقل طور پر دارالاقامہ اور درسگاہ کی تعمیر کی۔

ڈاکٹر محمد مصطفےٰ شریف، سابق صدر شعبہ عربی جامعہ عثمانیہ و دائرة المعارف العثمانیہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کو چن لیتا ہے اور ان کے ذریعہ کیے گئے کاموں کو رہتی دنیا تک ثواب جاریہ کا باعث بناتا ہے۔ انہوں نے مولانا حافظ محمد محبوب علی کے قائم کردہ مدرسہ کی تعریف کی اور کہا کہ وہاں سے کئی افراد فیض حاصل کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر مصطفےٰ نے طلباء کو نصیحت کی کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور اس کے ترجمہ اور تفسیر کا مطالعہ کریں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن غور و فکر کی چیز ہے اور اس میں 25 ایسی آیات ہیں جو سائنسی معلومات سے متعلق ہیں۔ ان آیات کی تعلیم دینے سے طلباء دنیا میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔

مولانا قاضی محمد بشیر محی الدین، کامل جامعہ نظامیہ نے دارالعلوم محبوبیہ کی 32 سالہ خدمات کو سراہا اور ان کے نگرانوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے حافظ محمد نصیر الدین نقشبندی اور ان کے صاحبزادوں کی محنت کی تعریف کی، جو طلباء کو حفاظ بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

اس موقع پر، قدیم طلباء دارالعلوم محبوبیہ، ڈاکٹر مولوی حافظ محمد ندیم اللہ خاں، ڈاکٹر مولوی حافظ محمد سعید الدین، اور ڈاکٹر مولوی حافظ محمد محمود محی الدین کو جامعہ نظامیہ کے مذکورہ عہدوں پر فائز ہونے پر تہنیت پیش کی گئی۔